امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 305
الوحی صفحہ 150 پر لکھتے ہیں:۔دوسری بات یہ کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام مختص الز ماں اور مختص القوم تعلیم اور مشن لے کر آئے تھے جس کا تعلق توریت اور بنی اسرائیل سے تھا۔مگر مرزا صاحب قرآن جیسی اکمل کتاب اور آنحضرت صلی علیہ وسلم جیسے عظیم المرتبت رسول کے تابع اور اسلام کے عالمگیر مشن کی خدمت کے ساتھ بھیجے گئے ہیں۔جس کا نتیجہ یہ ٹھہرتا ہے کہ آپ کے دائرہ اصلاح میں دنیا کی ساری اقوام ہیں اور قرآن کریم کے جامع اور دائی شریعت کے تقاضے توریت اور انجیل کی نسبت کہیں زیادہ اور بلند وبالا ہیں۔لہذا اس بناء پر آپ اپنی فضیلت مسیح ناصری علیہ السلام پر بیان کرتے ہیں۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ جب کہ مجھ کو تمام دنیا کی اصلاح کے لئے ایک خدمت سپرد کی گئی ہے۔اس وجہ سے کہ ہما را آقا اور مخدوم تمام دنیا کے لئے آیا تھا۔تو اس عظیم الشان خدمت کے لحاظ سے مجھے وہ طاقتیں اور قو تیں بھی دی گئی ہیں جو اس بوجھ کے اٹھانے کے لئے ضروری تھیں اور وہ معارف اور نشان بھی دیئے گئے ہیں جن کا دیا جانا اتمام حجت کے لئے مناسب وقت تھا۔مگر ضروری نہ تھا کہ حضرت عیسی کو وہ معارف اور نشان دیئے جاتے۔کیونکہ اُس وقت اُن کی ضرورت نہ تھی اس لئے حضرت عیسی کی سرشت کو وہ قوتیں اور طاقتیں دی گئیں جو یہودیوں کے ایک تھوڑے سے فرقے کی اصلاح کے لئے ضروری تھیں اور ہم قرآن شریف کے وارث ہیں جس کی تعلیم جامع تمام کمالات ہے اور تمام دنیا کے لئے ہے۔مگر حضرت عیسی صرف توریت کے وارث تھے جس کی تعلیم ناقص اور مختص القوم ہے۔اسی وجہ سے انجیل میں ان کو وہ باتیں تاکید کے ساتھ بیان کرنی پڑیں جو توریت میں مخفی اور مستور تھیں لیکن قرآن شریف سے ہم کوئی امر زیادہ بیان نہیں کر 305