امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 303
اليه كما وقع بنينا صلى الله عليه وسلم بالنسبة الى ظهور المهدى“۔تفهيمات الهيه جلد ثانی صفحه 198 تفهیم نمبر 227) یعنی بروز حقیقی کی ایک قسم یہ ہے کہ کبھی ایک شخص کی حقیقت میں اس کی آل یا اس کے متوسلین داخل ہو جاتے ہیں جیسا کہ ہمارے نبی صلعم کے مہدی سے تعلق میں اس طرح کی بروزی حقیقت وقوع پذیر ہوگی۔اسی طرح حج الکرامہ میں نواب صدیق حسن خان صاحب نے ابن سیرین کا قول یوں نقل کیا ہے۔قال ابن ابي شيبة في باب المهدى عن محمد بن سيرين قال يكون هذا الامة خليفة خير من ابي بكر وعمر قيل خير منهما قال قد كاد يفضل على بعض الانبياء وفي لفظ لا يفضل عليه ابوبکر و عمر سیوطی گفته هذا اسناد صحیح“۔(حجج الكرامة صفحه 386) ابن ابی شیبہ باب المہدی میں محمد بن سیرین کی یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا اس امت میں ایک ایسا خلیفہ ہوگا جو ابو بکر اور عمر سے بھی بہتر ہوگا ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ان دونوں سے بہتر ہوگا انہوں نے جواب دیا کہ ہاں قریب ہے وہ بعض انبیاء سے بھی افضل ہو اور ایک روایت کے یہ الفاظ ہیں اس خلیفہ سے ابو بکر اور عمر افضل نہیں ہوں گے۔امام سیوطی نے اس قول کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔غرضیکہ آنے والے کے مقام اور مرتبے کے بارہ میں امت مسلمہ کا عقیدہ جو بھی ہے وہی جماعت احمدیہ کا حضرت مرزا صاحب کے بارے میں ہے۔لہذا جو لوگ مرزا صاحب 303