امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 297
قرآن حکیم سے لفظ اُمت کے مختلف استعمال خود عدالت کے فیصلہ میں صفحہ 127 و128 پر درج ہیں۔خود درسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ اُمت کو اپنے متبعین کے لئے استعمال کیا۔جیسا کہ عدالت کے فیصلہ کے صفحہ 128 میں مذکور ہے۔خود میثاق مدینہ میں رسول کریم نے یہ لفظ دونوں معنوں میں استعمال کیا میثاق مدینہ کے ابتدائیہ میں قریش میثرب کو، مومنوں ، مسلمانوں ان کے بعد میں آنے والوں کو ، جو ان کے ساتھ جہاد میں شامل ہوں ایک اُمت قرار دیا گیا اور تسلیم کیا گیا کہ وہ باقی سب مسلمانوں سے الگ ایک اُمت ہیں۔فانهم امة من دون الناس“۔پھر اس میثاق مدینہ کی دفعہ 126 میں بنی عوف کے یہود کو مسلمانوں کے ساتھ ایک امت قرار دیا گیا۔گویا معاہدے کے فریقین کے لئے الگ الگ بھی اُمت کا لفظ استعمال ہوا اور انہیں مجموعی طور پر بھی ایک امت قرار دیا گیا۔عدالت نے اپنے فیصلہ کے صفحہ 128 پر تسلیم کیا ہے کہ میثاق مدینہ میں مسلم اکثریت اور غیر مسلم اقلیت پر مبنی ایک سیاسی وحدت کے لئے لفظ امت استعمال کیا گیا ہے۔غرضیکہ یہ بات واضح ہے کہ لفظ اُمت کے دینی اور سیاسی مفہوم الگ الگ موجود ہیں اور لفظ اُمت کے اپنے مذہبی ،معاشرتی اور ثقافتی تقاضے ہیں۔قرآن حکیم اور ارشادات نبوی کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ دینِ اسلام کی کامل اطاعت اور اسلام اور ایمان کے مختلف مدارج اور کیفیات کے باوجود عام مفہوم کے مطابق مسلمان کہلانا اور اسلام کی حقیقی روح کے مطابق اسلام کے تقاضوں پر پورا اتر نا دومختلف کیفیات ہیں اور اس بات کو قرآن حکیم نے یکجائی طور پر سورۃ حجرات کی آیت نمبر 15 میں ایمان اور اسلام کے ناموں سے موسوم کیا ہے امام راغب اصفہانی فرماتے ہیں کہ :۔شریعت میں اسلام دو طرح کا ہوتا ہے۔ایک دُون الایمان جس سے مراد زبانی اقرار ہے اور اس اقرار سے جانی تحفظ حاصل ہو جاتا 297