امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 295
کے ساتھ شادی بیاہت حرام اور قربت زنائے خالص ہے اور ” جنازے میں " شرکت“ اور ” نماز جنازہ پڑھنا حرام بلکہ کفر ہے اور جنازہ کندھوں پر اُٹھانا بھی حرام ہے“۔(عرفان شریعت حصه دوم صفحه 39,38 نوری کتب خانه بازار داتا صاحب لاهور گلزار عالم پریس لاهور) سنیوں کے نزدیک شیعہ حضرات :۔اہل کتاب بھی نہیں اُن سے مناکحت اور تعلقات رکھنا حرام اور ناظم شعبہ تعلیمات دارالعلوم دیو بند محمد مرتضی حسن کے نزدیک :۔شیعوں سے جمیع مراسم اسلامیہ ترک کرنا چاہئے بالخصوص مناکحت کیونکہ اس میں خود یا دوسروں کوز نا اور فواحش میں مبتلا کرنا ہے۔(علمائے کرام کا متفقہ فتوی در باب ارتداد شیعہ اثناعشریہ ناشر مولوی محم عبد الشکور مدیر انجم لکنھو 1920ء) رہ گئے شیعہ حضرات تو ان کا فتویٰ یہ ہے کہ :۔شیعہ سنی کا نکاح جائز نہیں“۔اور (الفروع من الجامع الكافي جلد1صفحه 142 كتاب النكاح مولفه ابوجعفر محمد بن يعقوب) نزدیک محققین کے حرام ہے عقد مومنہ شیعہ کا مردسنی سے“ (تحفة العوام صفحه 273 بارچهارم مرتبه سید تصدق حسین مطبع نامی منشی نول کشور لکھنو 1897ء) الغرض اگر اصول یہی ٹھہرے کہ جس فرقہ کو دوسرے فرقے کا فرقرار دیتے ہوں اور جو دوسرے فرقوں کو کا فرقرار دیتا ہو رشتہ ناطہ اور معاشرت کے تعلقات بھی آپس میں نہ ہو تو ایک الگ اُمت وجود میں آجاتی ہے تو پھر اس مملکت خداداد میں درجنوں اُمتیں آباد ہیں۔سب خود کو مسلمان کہلانے والی اور دوسروں کو اُمت سے خارج سمجھنے والی۔295