امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 292
اور اگر علماء کے فتوے سے الگ اُمت وجود میں آتی ہو تو دیوبندی حضرات کے بارہ میں مولا نا احمد رضا خان بریلوی کا یہ فتویٰ توجہ کے لائق ہے۔” جب علمائے حرمین طیبین زاد ہم اللہ شرف و تکریما نانوتوی و گنگوہی وتھانوی کی نسبت نام بنام کفر کی تصریح فرما چکے ہیں کہ یہ سب کفار مرتدین ہیں اور یہ که من شک فـی کـفـره وعذابه فقد کفر۔جوان کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ، نہ کہ اس کو پیشوا وسرتاج اہل سنت جاننا، بلاشبہ جو ایسا جانے ہرگز ہرگز صرف بدعتی و بد مذہب نہیں قطعاً کافر و مرتد ہے اور ان تمام احادیث کا کہ سوال میں فتاویٰ الحرمین سے منقول ہوئیں مورد ہے۔بلاشبہ اس سے دُور بھاگنا اور اسے اپنے سے دور کرنا۔اس سے بغض اس کی اہانیت اس کارڈ فرض ہے اور تو قیر حرام اور ہم اسلام، اسے سلام کرنا حرام ، اس کے پاس بیٹھنا حرام، اس کے ساتھ کھانا پینا حرام، اس کے ساتھ شادی بیاہت حرام اور قربت زنائے خالص اور بیمار پڑے تو اُسے پوچھنے جانا حرام، مر جائے تو اس کے جنازے میں شرکت، اسے مسلمان کا سا غسل و کفن دینا حرام، اس پر نماز جنازہ پڑھنا حرام بلکہ کفر، اس کا جنازہ اپنے کندھوں پر اُٹھانا، اس کے جنازہ کی مشایعت حرام، اسے مسلمانوں کے مقابر میں دفن کرنا حرام، اس کی قبر پر کھڑا ہونا حرام، اس کے لئے دعائے مغفرت یا ایصالِ ثواب حرام بلکہ کفر۔(فقیر احمد رضا قادری عفى عنه مهر عبدالمصطفى احمد رضا خان محمدی، سنی، حنفی، قادری۔عرفان شریعت حصه دوم صفحه 58,57 نوری کتب خانه بازار داتا صاحب لاهور گلزار عالم پریس لاهور) اور دیوبندی حضرات کو بریلوی حضرات کے کفر کے بارہ میں قطعاً کوئی شبہ نہیں ہے دیوبندی حضرات کے نزدیک وو رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم دجالِ بریلوی اور اُن کے اتباع کو محقاً محقاً 292