امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 291 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 291

دیگر سب مسلمانوں کو کا فرقرار دیتے ہیں۔رشتہ ناطہ اور معاشرت کے تعلقات بھی مسلمانوں سے نہیں رکھتے اور غیر احمدی امام کے پیچھے نماز ادا نہیں کرتے۔لہذا وہ اپنے قول وفعل سے خود ایک الگ اُمت بن چکے ہیں۔عدالت کا یہ کہنا ہے کہ مسلمان انہیں اُمت سے خارج تصور کرتے ہیں اور عجیب بات ہے کہ احمدی بھی مسلمانوں کو اسی اُمت سے باہر خیال کرتے ہیں اور یوں گویا یہ بالکل واضح ہے کہ دونوں ایک اُمت سے تعلق نہیں رکھتے۔سوال یہ نہیں تھا کہ احمدی اور پاکستان کے دیگر مسلمان ایک ہی اُمت کا حصہ ہیں یا نہیں۔سوال صرف اس قدر تھا کہ احمدی جو کچھ بھی ہیں کیا اذان کو ممنوع قرار دینا اور آرڈینینس کے دیگر تقاضے قرآن وسنت کے مطابق ہیں یا نہیں؟ اگر اس سوال کا کوئی بھی تعلق آرڈینینس کے جواز یا بطلان سے ہے تو اس اصول کے مطابق مسلمان فرقوں کے ایک دوسرے کے خلاف تکفیر کے فتاوی کی وجہ سے ایسے لاتعداد آرڈینینس جاری کرنے پڑیں گے جس کے نتیجہ میں روئے زمین پر کوئی بھی اذان نہ دے سکے گا۔بایں ہمہ اگر احمدی اس وجہ سے ایک الگ اُمت ہیں کہ مسلمان انہیں اُمت سے خارج تصور کرتے ہیں تو دیوبندی بھی یقیناً ایک الگ اُمت ہیں۔کیونکہ بریلویوں کے نزدیک دیو بندیوں کی عبارات نا قابل تاویل ہیں۔توہین و تنقیص رسالت کا کفر ہونا اُمت کا اجماعی عقیدہ ہے اس لئے تو ہین اور تنقیص کرنے والے اور تنقیص شان رسالت پر مطلع ہو کر حق ماننے والے یقیناً کافر ہیں۔ان کے کفر میں شک کرنے والے بھی کافر و مرتد ہیں۔دیوبندی مذہب کا علمی محاسبہ صفحہ 507۔مصنفہ مولوی غلام مہر علی صاحب گولڑوی مطبوعہ کتب خانہ مہریہ مسجد نور منڈی چشتیاں شریف ضلع بہاولنگر جولائی 1956ء) 291