امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 284
مخاطبات میں ہرگز مراد نہیں۔اور یہ طریق ہم نے برابر چالیس برس تک پادری صاحبوں کی گالیاں سن کر اختیار کیا ہے۔(روحانی خزائن جلد 9 صفحه 374، 375ـ نورالقرآن“ نمبر 2 بعنوان ناظرین کے لئے ضروری اطلاع) ظلم و تعدی کرنے والے بد زبان معترضین کے لئے الزامی جواب کا یہ انداز قرآن حکیم کی اس تعلیم کے عین مطابق تھا۔وَلَا تُجَادِلُوْا أَهْلَ الْكِتَابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ (العنكبوبت: 47) اور یہ انداز دیگر علماء نے بھی استعمال کیا ہے۔چنانچہ اہل حدیث کے عالم نواب صدیق حسن خان صاحب ایک واقعہ یوں لکھتے ہیں :۔ایک بار پیچی روم پاس بادشاہ انگلستان کے گیا تھا اس مجلس میں ایک عیسائی نے اس کو مسلمان دیکھ کر یہ طعن کیا کہ تم کو کچھ خبر ہے کہ تمہارے پیغمبر کی بی بی کولوگوں نے کیا کہا تھا اس نے جواب دیا ہاں مجھ کو یہ خبر ہے کہ اس طرح کی دو بیبیاں تھیں جن پر تہمت زنا کی لگائی گئی مگر اتنا فرق ہوا کہ ایک بی بی پر فقط اتہام ہوا، دوسری بی بی ایک بچہ بھی جن لا ئیں وہ نصرانی مبہوت ہو کر رہ گیا۔(ترجمان القرآن جلد اول صفحه 430 از نواب صدیق حسن خان صاحب سورة آل عمران زیر آیت از قالت الملئكة يمريم ان الله يبشرك بكلمة منه - مطبوعه مطبع احمدی لاهور) " مولوی آل حسن صاحب اپنی کتاب ” استفسار میں جو ازالۃ الا وہام“ مولفہ مولوی رحمت اللہ صاحب کرانوی مہاجر مکی کے حاشیہ پر چھپی ہے تحریر فرماتے ہیں:۔" حضرت عیسی کا بن باپ پیدا ہونا تو عقلاً مشتبہ ہے اس لئے کہ حضرت مریم یوسف کے نکاح میں تھیں، چنانچہ اس زمانہ کے معاصرین لوگ یعنی یہود جو کچھ کہتے ہیں سو ظاہر ہے“۔(صفحہ 22) 284