امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 278
کیسے رہ گئی اور اگر کسی شعبدہ سے واقعی تعداد اتنی ہی رہ گئی تھی تو اس کا مقدمہ کے فیصلہ سے کیا تعلق تھا کیا شرعی عدالتوں کے فیصلے اکثریت یا اقلیت کی بنیادوں پر ہوں گے۔کیا کوئی قانون محض اس لئے قرآن وسنت کے مطابق ٹھہرے گا کہ اس کی زد محض ایک لاکھ تین ہزار افراد پر پڑتی ہے۔کیا کوئی غیر اسلامی قانون محض اس لئے قرآن وسنت کے مطابق قرار دیا جا سکتا ہے کہ اس کے خلاف اُٹھنے والی آوازوں کی تعداد کم ہے۔اگر نہیں تو آخر ہندسوں کے اُلٹ پھیر سے سائلان کی درخواست کا کیا تعلق؟ غرضیکہ مختلف جہات سے دیکھا جائے تو محتاط اندازہ کے مطابق بھی احمدیوں کی تعداد صرف پاکستان میں چالیس لاکھ کے لگ بھگ یقینی معلوم ہوتی ہے۔1981 ء کی مردم شماری کی بنیاد پر کل تعداد ایک لاکھ تین ہزار بیان کرنا سادہ لوحی کی انتہاء ہے۔یہ تو اندرون پاکستان احمدیوں کی تعداد کا ذکر ہے ورنہ افریقہ کے بعض ممالک میں احمدیوں کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کر چکی ہے اور جماعت احمد یہ اس وقت ان ممالک میں 86 پرائمری سکول ،34 سیکنڈری سکول ،51 دینی مدارس، 2 کالج ، 23 ہسپتال چلا رہی ہے۔بیرونی ممالک میں جماعت احمد یہ کی تعمیر کردہ مساجد کی تعداد 901 ہے۔دس زبانوں میں جماعت کے تراجم قرآن کریم مختلف ممالک میں ہزاروں کی تعداد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ جماعت احمد یہ دنیا کے پچاس سے زائد ممالک میں قائم ہے۔لہذا جماعت احمدیہ کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ایک نا قابل انکار حقیقت ہے۔فاضل عدالت تو جماعت کی ترقی کے بارہ میں پیشگوئی کے بطلان کو ظاہر بیان کرتی ہے۔اور فاضل وکیل سرکار عدالت میں پانچ روز تک ایک جارح اقلیت“ کی طرف سے اکثریت کو درپیش خطرے کا ذکر کرتے رہے۔اگر دوسرے فرقوں سے لوگ خاصی تعداد میں سلسلہ احمدیہ میں داخل نہیں ہور ہے تو یہ خطرہ کیا تھا؟ اور یہ خوف کیسا تھا؟ 278