امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 277
شماری آج تک نہیں ہوئی۔مگر پاکستان میں احمدیوں کی تعداد کے بارہ میں مختلف بنیادوں پر جو اندازے لگائے گئے ہیں۔ان کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اکانومسٹ لندن کی بیان کردہ ایک کروڑ کی تعداد یقیناً ایک محتاط اندازہ ہے۔پاکستان کے قومی اخبارات کی رپورٹنگ کے مطابق 1962 ء 1963 ء۔ء کے جماعت احمدیہ کے جلسہ سالانہ میں حاضرین کی تعداد اڑھائی لاکھ سے ساڑھے تین لاکھ تک بیان کی گئی ہے۔(1982ء میں روزنامہ جنگ 29 دسمبر 1982 ء کے مطابق تین لاکھ، روزنامہ امروز 8 دسمبر 1982ء صفحہ 8 کے مطابق اڑھائی لاکھ اور 1983 ء میں روز نامہ مشرق 30 دسمبر 1983 ء صفحہ 5 کے مطابق ساڑھے تین لاکھ افراد جلسہ سالانہ میں شریک تھے۔) اور اس تعداد میں بیرون ملک سے آنے والے احمدیوں کی تعداد چند سو سے زیادہ نہیں۔اور اندرون پاکستان سے بھی ہر احمدی جلسہ میں شامل نہیں ہوتا ، نہ ہی ایسا ممکن ہے۔جلسہ سالا نہ ایک نمائندہ اجتماع ہی ہوتا ہے۔یہ توصرف ایک انڈیکس ہے۔ایک دوسرا انڈیکس ووٹروں کی تعداد بھی ہے۔1970 ء کے الیکشن میں جماعت احمدیہ کے بعض مخالف اخبارات کے اندازہ کے مطابق پاکستان میں چالیس لاکھ احمدی ووٹر تھا۔اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ ووٹروں کی تعداد کل تعداد کا کبھی بھی 30 فیصد سے زیادہ نہیں ہوتی۔پاکستان کی نو کروڑ آبادی میں ووٹروں کی تعداد کل تین کروڑ بیان کی جاتی ہے اور اس اعتبار سے مخالفانہ اندازوں کے مطابق احمدیوں کی تعداد ایک کروڑ بیس لاکھ ٹھہرتی ہے۔مگر ظاہر ہے کہ یہ مخالفانہ مبالغہ آرائی ہے جو جماعت کے فعال ہونے کی وجہ سے اس کے اثر ورسوخ کو دیکھ کر کی گئی ہے۔ایک اور اندازے کے مطابق 1970 ء کے انتخابات میں 22لاکھ سے زائد احمدی رضا کار بیان کئے گئے ہیں۔( ہفت روزہ چٹان 22 فروری 1971، صفحہ 9) اس سے جماعت احمدیہ کی کل تعداد کا کچھ اندازہ ہو سکتا ہے۔بہر حال یہ بات ناقابل فہم ہے کہ جس جماعت کے صرف رضا کاروں کی تعداد 1970 میں 22 لاکھ سے زائد تھی اس پوری جماعت کی تعداد 1983 ء میں گھٹ کر ایک لاکھ تین ہزار & 277