امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 272 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 272

ساری قوم ہندوؤں کی چھوڑی ہوئی الائمنٹوں کے چکر میں سرگرداں تھی۔اس وقت اس صاحب عزم نے چند خیموں کے ساتھ جس مرکز کا آغاز کیا اور اس مرکز سے جس فقال جماعت کو جس شان کے ساتھ سر گرم عمل کر دیا۔اس کی وجہ سے آج ربوہ معاندین احمدیت کی نظروں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔یہ بات بلاخوف تردید کہی جاسکتی ہے اور اس بات کو چھپانے میں کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب یقیناً حضرت مرزا غلام احمد قادیانی ایسے بیٹے تھے جو بہت سی خوبیوں کے مالک تھے۔لہذا بہت سی خوبیوں والے بچے کی پیدائش کی پیشگوئی تو یقیناً پوری ہوئی۔باقی اس بیٹے کی پیدائش کے وقت کا تعین ایک ایسا معاملہ تھا جس کو اگر عدالت سمجھنا چاہتی اور محض تعصب کی بناء پر اور دلآ زاری کے شوق میں مخالفانہ لٹریچر سے عمد امتأثر ہو کر غیر ضروری طور پر طعنہ زنی کرنا نہ چاہتی تو یہ امور بھی ایسے نہیں تھے جو عدالت کی سمجھ میں نہ آ سکتے۔نو سال کے عرصہ کا ذکر خود عدالت کے فیصلے میں موجود ہے اور عدالت کے فیصلے ہی سے یہ بات معلوم ہو جاتی ہے کہ اشتہار 1886ء میں دیا گیا اور یہ بات بھی تاریخ میں ایسی متحکم ہے کہ جس کا انکار ممکن نہیں کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی پیدائش 1889ء میں ہوئی۔رہا یہ امر کہ بعض دوسری ولادتوں کو موعود بیٹے کی ولادت سمجھا گیا یا بعض لوگ اس پیشگوئی کے فوری طور پر پورا نہ ہونے پر بد دل ہو گئے۔تو یہ سوائے طعنہ زنی کے اور کچھ نہیں اور عدالت نے دلائل کی بجائے غیظ و غضب کا اظہار کیا ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر بعض لوگ برگشتہ ہو بھی جائیں یا ہو گئے تو کیا آرڈ مینس قرآن وسنت کے مطابق ہو جائے گا؟ برگشتگی تو سلسلہ انبیاء کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔ابتلاء میں پڑ کر بعض لوگ تو علیحدہ ہو ہی جاتے ہیں اور قرآن کریم میں بھی ارتداد کا مفصل ذکر موجود ہے۔متلون 272