امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 271 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 271

مسلمان اور کیا غیر مسلمان بہت تھوڑے مورخ ہیں جو حضرت عثمان کے عہد کے اختلافات کی تہہ تک پہنچ سکے ہیں۔اور اس مہلک اور پہلی خانہ جنگی کے فتنہ کی اصلی وجوہات کو سمجھنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔حضرت مرز اصاحب کو نہ صرف خانہ جنگی کے اسباب سمجھنے میں کامیابی ہوئی ہے۔بلکہ انہوں نے نہایت واضح اور مسلسل پیرائے میں اُن واقعات کو بیان فرمایا ہے جن کی وجہ سے ایوانِ خلافت مدت تک تزلزل میں رہا۔میرا خیال ہے کہ ایسا مد تل مضمون اسلامی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے احباب کی نظر سے پہلے کبھی نہیں گذرا ہوگا“۔( پیش لفظ اسلام میں اختلافات کا آغاز صفحہ 3) اور جماعت احمدیہ کے ایک معاند، مفکر احرار چوہدری افضل حق نے اپنے اخبار ” مجاہد“ میں مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے بارے میں اقرار کیا کہ:۔وو جو عظیم الشان دماغ اس کی پشت پر ہے وہ بڑی سے بڑی سلطنت کو پل بھر میں درہم برہم کرنے کے لئے کافی تھا۔حضرت مرزا بشیر الدین صاحب کی تفسیر کبیر کے شیدائی جماعت احمدیہ سے باہر بھی لا تعداد ہیں جو علوم قرآن کی خاطر تمام تر تعصبات کو بالائے طاق رکھ کر تفسیر کبیر کے مطالعہ کو باعث فخر سمجھتے ہیں۔کشمیر کمیٹی کے صدر کے طور پر آپ کی خدمات تحریک شدھی کے دوران آپ کی تڑپ اور جماعت احمدیہ کی خدمات، آپ کے علم قرآن کے بارے میں مولانا ظفر علی خاں کا اقرار، دنیا کے گوشے گوشے تک آپ کے دور خلافت میں جماعت احمدیہ کا قیام، ایک بے خانماں ، بدحال اور آشفتہ حال اُجڑی ہوئی جماعت کا تقسیم ملک کے بعد ربوہ کے بے آب و گیاہ بنجر زمین میں مرکز کا قیام اُس اولوالعزم کے عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔جب 271