امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 269 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 269

دوسرے پیرا گراف سے لے کر صفحہ 59 کے دوسرے پیراگراف تک حذف کئے جانے کے لائق ہیں چونکہ یہ غیر متعلق، غیر ضروری، دلآ زار، خلاف واقعہ اور بدنیتی پر مبنی ہیں۔موعود بیٹے کی پیدائش کی بشارت جماعت احمدیہ کی تاریخ کا زریں باب ہے اور وہ پیشگوئی ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے جو اس شان سے پوری ہوئی کہ دوستوں اور دشمنوں نے اس بیٹے کے علم و عظمت کا اقرار کیا جو تاریخ کے صفحات پر ایک انمٹ نقش کے طور پر محفوظ ہے۔پیشگوئی کس شان سے پوری ہوئی۔اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے۔پیشگوئی کے الفاظ یہ تھے:۔تادین اسلام کا شرف اور مرتبہ ظاہر ہو“۔وہ علوم ظاہری اور باطنی وو سے پر کیا جائے گا۔وہ زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایسا وجود نہیں تھے جن کے بارے میں عدالت کو علم نہ ہو۔یا جن کا مقام، مرتبہ اور علم و دانش کسی پڑھے لکھے انسان سے مخفی ہو۔مرزا بشیر الدین محمود احمد نے جب وفات پائی تو مولا نا عبد الماجد دریا آبادی نے اپنے رسالہ ” صدق جدید“ میں لکھا:۔قرآن و علوم قرآن کی عالمگیر اشاعت اور اسلام کی آفاق گیر تبلیغ میں جو کوششیں انہوں نے سرگرمی اور اولوالعزمی سے اپنی طویل عمری میں جاری رکھیں ان کا اللہ انہیں صلہ عطا فرمائے۔علمی حیثیت سے قرآنی حقائق ومعارف کی جو تشریح تبیین و ترجمانی وہ کر گئے ہیں اس کا بھی ایک بلند وممتاز مرتبہ ہے“۔(صدق جدید لکھنو 18 نومبر 1965ء) مولوی ظفر علی خان ایڈیٹر اخبار زمیندار باوجود یکہ جماعت احمدیہ کے معاند تھے لیکن 269