امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 267
پھلتا پھولتا بھی دیکھیں۔ہم نے اختصار کے ساتھ عرض کر دیا ہے کہ یہ پیشگوئی بھی تفصیلی مطالعہ کی متقاضی تھی اور عدالت نے اس کے مالہ وماعلیہ پر غور کئے بغیر قرآنی اصولوں کے خلاف بے دھڑک یہ بات کہہ دی کہ موت کی پیشگوئیاں کرنا بھی گویا ایک کھیل تماشا ہے۔غرضیکہ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کا قصہ بھی ان امور میں سے ہے جو عدالت نے اپنے تعصب کے اظہار کے لئے اور جماعت احمدیہ کے معاندانہ لٹریچر سے یکطرفہ طور پر متاثر ہو کر جماعت احمدیہ کے خلاف دلآزاری کے لئے اپنے فیصلہ میں شامل کیا جو حذف کئے جانے کے لائق ہے۔عدالت نے اپنے فیصلہ کے صفحہ 57 پر حضرت مرزا صاحب کی ایک اور پیشگوئی کے بارہ میں اظہار خیال کیا ہے۔یہ بھی معاملہ زیر نظر سے قطعاً غیر متعلق اور غیر ضروری ہونے کی وجہ سے حذف کئے جانے کے لائق ہے۔اس پیشگوئی کے سلسلہ میں عدالت نے اپنے تعصب کے اظہار میں انتہاء کر دی ہے۔عدالت نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ مرزا صاحب نے ایک بیٹے کی پیشگوئی کی تھی۔پھر ایک بیٹی اور ایک بیٹے کی پیدائش اور ان کی کم عمری میں وفات کے ذکر پر بات کو یوں نامکمل چھوڑ دیا گویا یہ باب ختم ہو گیا۔یہ باور کرنا مشکل ہے کہ جس عدالت نے پیشگوئی کے پورا نہ ہونے کی مزعومہ دو مثالیں سلسلے کی تاریخ اور لٹریچر سے تلاش کر کے نکالیں۔اسے یہ معلوم نہ ہوگا کہ مرزا صاحب کے موعود بیٹے کے بارے میں جماعت احمدیہ کا مسلک اور موقف کیا ہے۔بات کو یوں ادھورا چھوڑا گیا۔گویا بشیر اول کی وفات کے بعد مرزا صاحب کے ہاں کوئی بیٹا پیدا ہی نہیں ہوا۔اور بیٹے کے تولد کی پیشگوئی غلط ثابت ہوئی۔حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ اس پیشگوئی کے بعد اور بشیر اوّل کی وفات کے بعد مرزا صاحب کے تین بیٹے مزید پیدا 267