امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 265
اے کہ مے داری تو بردلها نظر اے کہ از تو نیست چیزی مستتر گر تو بینی مرا فق وشر گر تو دیداستی که هستم بد گہر بدکاررا پاره پاره کن من شاد کن این زمرہ اغیار را آتش افشاں بر درو دیوار من دشمنم باش و تباه کن کارمن یعنی ”اے میرے خدا! تو خالق ارض و سما ہے، تو ہر چیز پر قادر ہے تو رحیم و مہربان اور رہنما ہے۔تیری تو دلوں پر نظر رہتی ہے۔تجھ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں اگر تو مجھے نافرمانی اور شرارت سے بھرا ہوا دیکھتا ہے اگر تو جانتا ہے کہ میں برا آدمی ہوں تو اے خدا مجھ ایسے بدکار کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے اور میرے زمرہ اغیار کو شادمان کر۔میرے در و دیوار پر آگ برسا۔خود میرا دشمن ہوجا اور میرے سارے کام کو تباہ کر دے“۔کہاں تو یہ عالم کہ خدا کے علم اور اس کی قدرت کو ذہن میں مستحضر کر کے اپنے لئے اس انداز سے موت طلب کرنے کا حوصلہ مرزا صاحب میں تھا۔اور کہاں یہ عالم کہ مولوی ثناء اللہ امرتسری صاحب مباہلے کے سوال پر ایک مستقل آنکھ مچولی کھیلتے رہے اور مقابلہ پر نہیں آئے کبھی لکھا:۔یہ تحریر تمہاری مجھے منظور نہیں اور نہ کوئی دانا اسے منظور کر سکتا ہے“ القصہ مختصر اگر اعتراض دعوت مباہلہ پر ہے تو وہ تو مولوی ثناء اللہ امرتسری صاحب نے 265