امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 263
یہ تحریر تمہاری مجھے منظور نہیں اور نہ کوئی دانا اسے منظور کر سکتا ہے“۔اور ایک دوسرے موقعہ پر لکھا:۔وو اهل حدیث 26 اپریل 1907ء) چونکہ یہ خاکسار نہ واقعہ میں اور نہ آپ کی طرح نبی یا رسول، ابن اللہ یا الہامی ہے اس لئے ایسے مقابلہ کی جرأت نہیں کر سکتا۔اور ایک اور موقعہ پر لکھا:۔(الهامات مرزا صفحه 102 طبع سوم 1904ء) ” میں نے آپ کو مباہلہ کے لئے نہیں بلایا۔میں نے تو قسم کھانے پر آمادگی کی ہے۔مگر آپ اس کو مباہلہ کہتے ہیں حالانکہ مباہلہ اس کو کہتے ہیں جو فریقین مقابلہ پر قسمیں کھائیں۔میں نے حلف اُٹھانا کہا ہے مباہلہ نہیں کہا۔قسم اور ہے، مباہلہ اور۔(اهلحديث صفحه 4 - 19 اپریل 1907ء) در اصل مباہلہ قرآن کریم کا قائم کردہ ایک معیار ہے اور یہ بات اہل علم پر روشن ہے کہ مباہلہ کا لفظ باب مفاعلہ سے ہے جو مقابلہ کو چاہتا ہے اور مباہلہ اسی صورت میں ہوتا ہے جب فریقین مقابل پر جمع ہو کر قسمیں کھائیں۔جیسا کہ قرآن شریف کی آیت مباہلہ سے واضح ہے۔تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَ كُمْ وَنِسَاءَ نَا وَنِسَاءَ كُمْ وَأَنْفُسَنَا وأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَةَ اللَّهِ عَلَى الْكَذِبِينَ (ال عمران:62) یعنی تو کہہ دے کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تم اپنے بیٹوں کو اور ہم اپنی عورتوں کو اور تم اپنی عورتوں کو اور ہم اپنے نفوس کو اور تم اپنے نفوس کو۔پھر گڑ گڑا کر دعا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں۔263