امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 260
غرض وہ خاندان جس کے بارے میں پیشگوئی تھی۔اس خاندان نے اس پیشگوئی کو قبول کیا۔وہ افراد جن کے متعلق یہ پیشگوئی تھی انہوں نے تو بہ اور رجوع اختیار کیا اور اس پیشگوئی پر اعتراض نہ کیا۔وہ خاوند جس کی بیوی کے بارے میں پیشگوئی تھی وہ اس پیشگوئی کی صداقت کا گواہ بنا۔ان تمام باتوں کے باوجود اگر مخالفین یہ کہیں کہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی تو یہ فریقین کے درمیان زیادہ سے زیادہ متنازعہ امر ٹھہرے گا۔ایک اس پیشگوئی کے بارے میں جس کی نصف درجن سے زائد شقیں تھیں اور جس کے بارے میں جماعت احمد یہ علی وجہ البصیرت اس ایمان پر قائم ہے کہ وہ پیشگوئی پوری ہوئی۔مرز احمد بیگ کی موت سے اور مرزا سلطان محمد کے رجوع اور اس کی زندگی سے۔محمدی بیگم کی اولاد کے احمدی ہونے سے۔اس پیشگوئی کے بارے میں عدالت کی رائے زنی یک طرفہ، غیر منصفانہ، متعصبانہ اور امور متعلقہ مقدمہ زیر نظر سے قطعالا تعلق اور غیر ضروری ہے۔جس کو حذف کیا جانا چاہئے۔مرزا احمد بیگ کے بارے میں پیشگوئی ی تھی کہ اگر مرزا احمد بیگ اپنی بڑی لڑکی محمدی بیگم کا نکاح حضرت مرز اصاحب سے نہیں کریں گے اور کسی دوسری جگہ کر دیں گے تو دوسری جگہ نکاح کر دینے کے بعد تین سال کے اندر بلکہ بہت جلد ہلاک ہو جائیں گے۔مرزا احمد بیگ نے محمدی بیگم کا نکاح جب مرزا سلطان محمد سے کر دیا تو نکاح کے پانچ ماہ چار دن کے بعد 30 دسمبر 1892ء کو ہلاک ہو گیا اور اس کی وجہ سے پورے خاندان پر ایک ہیبت طاری ہوگئی اور رجوع کا سلسلہ شروع ہو گیا۔جس کی شہادت خود محمدی بیگم کے خاوند نے دی۔غرضیکہ اس پیشگوئی کے نتیجے میں :۔مرزا احمد بیگ کی موت سے مرزا سلطان محمد نے عبرت حاصل کی۔مرزا سلطان محمد پر خوف و ہیبت طاری ہوئی۔اس نے توبہ کی اور تو بہ کے باعث موت سے بچ گیا۔نیز ان کے سارے خاندان نے شوخی و شرارت اور استہزاء کو ترک کر دیا۔260