امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 258 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 258

افراد جو دین اسلام سے دُور جا چکے تھے ان کو واپس لانے کی خواہش کوئی عجب بات نہ تھی۔پیشگوئی کی اصل غرض اور اس میں مضمر حکمت الہی یہی تھی کہ ان لوگوں کو تنبیہ ہو۔لہذا اس پیشگوئی کو محض محمدی بیگم سے شادی کی کوشش اور نا کامی قرار دینا درست نہیں تھا۔عدالت نے اس بارے میں مخالف لٹریچر سے حوالے لے کر اعتراضات کی عمارت کھڑی کی ہے۔مثلاً صفحہ 62 پر حوالہ ” نوشتہ غیب“ مصنفہ ایم ایس خالد سے الیاس برنی صاحب نے ” قادیانی مذہب میں دیا اور عدالت نے تیسری جگہ الیاس برنی صاحب کی کتاب ” قادیانی مذہب سے نقل کیا ہے۔اسی طرح سے ” کلمات فضل رحمن" کا حوالہ قادیانی مذہب کے توسط سے نقل کیا گیا صفحہ 63 پر بھی ” قادیانی مذہب مصنفہ الیاس برنی سے حوالہ نقل کیا گیا۔اس پیشگوئی کے بارے میں جو ایک انداری پیشگوئی تھی اور ان تمام شرائط سے مشروط تھی جو نہ صرف پیشگوئی کے اندر موجود ہیں۔بلکہ ان بنیادی اصولوں کے مطابق جو ہم نے قرآن کریم اور اقوال ائمہ سلف سے بیان کئے ہیں۔ایک وعید کی پیشگوئی تھی۔یعنی عدالت نے نہ تو ان اصولوں کو زیر نظر رکھا جو وعید کی پیشگوئیوں کے بارہ میں مسلمہ ہیں۔اور نہ ہی حالات و واقعات کا پوری طرح سے جائزہ لیا۔اس بارے میں جماعت احمدیہ کا اپنا لٹریچر اور مخالف لٹریچر گزشتہ نوے سال پر پھیلا ہوا ہے اور پیشگوئی کی جزئیات اور تفصیلات تک زیر بحت آ چکی ہیں اور جماعت احمدیہ با رہا یہ ثابت کر چکی ہے کہ پیشگوئی اپنے تمام شرائط کے ساتھ اپنی تمام جزئیات کے ساتھ پوری ہو چکی ہے۔اس پیشگوئی کے جو حصے رجوع سے مشروط تھے وہ رجوع کی وجہ سے معلق ہو گئے۔اور باقی تفصیلات جس طرح بیان کی گئی تھیں ، پوری ہوئیں، مخالفانہ اعتراض تو موجود ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ خود مرزا احمد بیگ کے خاندان اور محمدی بیگم کے خاندان کے افراد پیشگوئی کے پورا ہونے کے قائل ہیں۔اور اس پیشگوئی کے بعد سلسلہ 258