امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 254
یقین رکھتا ہوں کہ آپ خدا تعالیٰ کے صالح بندوں میں سے ہیں۔یہ بھی لکھا: ” اگر مرزا صاحب مہدی ہوں تو کونسی بات مانع ہے“۔اور مزید لکھا:۔حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی حق پر ہیں اور وہ اپنے دعویٰ میں راستباز اور صادق ہیں۔پادری آتھم کا ذکر حضرت خواجہ صاحب کی مجلس میں ہوا تو فرمایا کہ اگر عبد اللہ آ تھم حضرت مرزا صاحب کی پیشگوئی کی مقررہ مدت کے اندازہ اور حد سے باہر چلا گیا یعنی پیشگوئی کی میعاد کے بعد فوت ہوالیکن مرز اصاحب کے سانس (یعنی بددعا ) سے مرا‘۔(اشارات فریدی حصه سوم صفحه 43,42 مطبع مفید عام اگر 13200ھ) الغرض آتھم کی پیشگوئی بہت سے پہلو اپنے اندر رکھتی تھی۔بہت سی باتیں سمجھنے اور بہت سے واقعات کا علم ضروری تھا۔پینگوئیوں کے بارے میں سنت اللہ اور قرآن حکیم کے بیان فرمودہ فلسفے کی معرفت ضروری تھی اور اس سارے معاملے میں ایک فریق بن کر محض طعنہ زنی کے لئے اس پیشنگوئی کا ذکر ایک یکطرفہ کارروائی تھی جو عدالت کے منصب کے خلاف تھی۔اس پیشگوئی کی تفصیلات کے بارے میں احمدیہ لٹریچر اور مخالفانہ لٹریچر دونوں ہی ارباب دانش کے لئے کھلی دعوت ہیں۔عدالت کا فیصلہ اس بحث کا کوئی مناسب محل نہ تھا۔اور اس حصہ کو بھی فیصلے میں سے حذف کیا جانا ضروری ہے۔عدالت نے اپنے فیصلہ کے صفحہ 54 میں یہ لکھا کہ پیشگوئی میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں تھا کہ آتھم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی تھیں۔حالانکہ یہ بات واقعتہ غلط ہے کیونکہ عبداللہ آتھم نے اپنی کتاب موسومہ اندرونہ بائبل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ دجال قرار دیا تھا۔اور اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت مرزا صاحب نے یہ فرمایا تھا:۔254