امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 253
کبھی سانپ نظر آتے ہیں جو اسے کاٹنے کو دوڑتے ہیں اور کبھی کتے اسے کاٹنے کے لئے دوڑتے ہیں اور کبھی نیزہ اُٹھائے ہوئے لوگ اس کی طرف بڑھتے ہیں۔وہ خوف کے مارے ایک جگہ سے دوسری جگہ شہر بہ شہر بھاگتا رہا اور پوری طرح خوف کی گرفت میں آ گیا اور اپنی زبان کو اسلام اور رسول اسلام کی دشنام دہی سے روک لیا اور رجوع آخر کیا چیز ہوتی ہے؟ اس سے بڑھ کر یہ کہ اس نے اخبار نور افشاں 21 دسمبر 1894ء میں یہ اعلان کیا کہ:۔میں عام عیسائیوں کے عقیدۂ ابنیت والوہیت کے ساتھ متفق نہیں اور نہ میں اُن عیسائیوں سے متفق ہوں جنہوں نے آپ کے ساتھ بے ہودگی کی“۔مرزا صاحب کی پیشگوئی کے الفاظ یہ تھے کہ ” جو ایک عاجز بندے کو خدا بنا رہا ہے۔گویا پیشگوئی کی بنیاد الوہیت مسیح تھی۔آتھم نے اپنے اقرار کے مطابق اس سے رجوع کیا اور رجوع کیا چیز ہوتی ہے؟ آتھم کے پندرہ ماہ کے بعد زندہ رہنے پر جب مخالفین نے یہ شور مچایا کہ مرزا صاحب کی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔تو پوری دنیا کے اعتراضات کے جواب میں جو کچھ مرزا صاحب کی طرف سے لکھا گیا وہ ایک الگ باب ہے مگر اہل اللہ میں سے تو یہی شہادت آئی کہ آتھم کی پیش گوئی پوری ہو چکی ہے۔چنانچہ انجام آتھم جب حضرت خواجہ غلام فرید نے پڑھی تو انہوں نے یہی لکھا کہ مرزا صاحب نیک اور مرد صادق ہیں۔انہوں نے مجھے اپنے الہامات کی ایک کتاب ( انجام آتھم ) بھیجی ہے ان کا کمال اس کتاب سے ظاہر ہے اسی اثناء میں علماء ظواہر میں سے کسی نے ( جو حضرت خواجہ صاحب کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا ) حضرت مرزا صاحب کے متعلق زبان دراز کی اور آپ کا رڈ وانکار کیا۔حضرت خواجہ صاحب ابقاه اللہ تعالیٰ نے اس کو جواب میں فرمایا کہ ”نہیں نہیں وہ مرد صادق ہیں۔مفتری اور کا ذب نہیں ہیں۔ان کا دعویٰ جعلی اور خود ساختہ نہیں ہے“۔مزید لکھا: ” میں 253