امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 249
پہلے پیشگوئیوں کا پس منظر، ان کے مصداق افراد کی پوری واقفیت اور حالات و واقعات کی پوری تفصیلات پر نظر ڈالنا ضروری ہوتا ہے۔عدالت نے مرزا صاحب کی جن پیشگوئیوں کو محل اعتراض بنایا ہے ان میں سے تین پیشگوئیاں وعید و انذار کی پیشگوئیاں ہیں اور عدالت نے ان کے پس منظر اور متعلقہ افراد کے اپنے حالات و واقعات کی نہ تو چھان بین کی اور نہ اس پر تفصیلاً نظر ڈالی۔محض مخالفین کے لٹریچر سے متاثر ہو کر اور ادھر اُدھر سے چند ایک اقتباسات لے کر ایک رائے قائم کی ہے۔جوسراسر خلاف واقعہ ہے اور مبنی بر انصاف نہیں۔ایک پیشگوئی جس پر عدالت نے رائے زنی کی ہے وہ پادری عبداللہ آتھم سے تعلق رکھتی ہے عدالت نے نہ تو عبد اللہ آتھم کے حالات کو مد نظر رکھا نہ پیشگوئی کے الفاظ کو ہی سمجھا اور نہ اس وقت کے واقعات کو پیش نظر رکھا، ورنہ عدالت کے علم میں یہ بات آ جاتی کہ عبد اللہ آتھم کی پیش گوئی کے بارے میں یہ بات بڑی وضاحت سے ثابت ہو چکی تھی کہ اس نے تو بہ کی اور رجوع کیا اور اپنی بدزبانی سے باز آ گیا اور اس طرح سے وہ فوری عذاب کی گرفت سے بچ گیا کیونکہ یہی سنت الہی ہے عدالت نے اس پیشگوئی کے پس منظر پر نظر نہیں ڈالی جو یہ تھی کہ امرتسر کے عیسائیوں نے ایک کھلے اشتہار کے ذریعہ اہل اسلام کو ایک مقابلے کی دعوت دی اور چیلنج کیا کہ اگر وہ اس مناظرے میں شریک نہ ہوئے تو آئندہ عیسائیت کی تبلیغ کے مقابل پر خاموشی اختیار کریں۔ایک طرف تو عیسائیوں کی طرف سے کھلا چیلنج تھا۔عالم یہ تھا کہ علماء میں سے کوئی اس چیلنج کو قبول کرنے کے لئے آگے نہیں بڑھا۔چنانچہ میاں محمد بخش صاحب جو جنڈیالہ کے ایک معزز مسلمان تھے اور حضرت مرزا صاحب کے پیروکاروں میں سے نہ تھے انہوں نے مرزا صاحب سے درخواست کی کہ وہ اہل اسلام کی جانب سے مباحثہ میں شریک ہوں ، عیسائیوں کی طرف سے پادری عبد اللہ آتھم مناظر مقرر ہوئے۔249