امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 244 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 244

تدریجاً ظہور میں آئے تو کیا اس وجہ سے آرڈنینس قرآن وسنت کے مطابق ہو جائے گا؟۔جب کوئی نسبت اور کوئی تعلق دونوں باتوں میں سرے سے موجود ہی نہیں تو آرڈنینس کے خلاف قرآن وسنت کی بحث میں حضرت مرزا صاحب کے دعاوی کا ذکر ہی غیر متعلق اور بے ربط ہے۔مگر عدالت کا حضرت مرزا صاحب کے دعاوی میں تدریج کا الزام بھی کوتاہی فکر اور قلت تدبر اور کم علمی پر مبنی ہے۔اگر عدالت کو یہ علم ہوتا کہ انبیاء کی تاریخ میں اس قسم کا الزام کوئی نئی بات نہیں اور اس اعتراض کی زد خود ہمارے سید و مولا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑتی ہے تو عدالت یہ اعتراض اُٹھانے کی جسارت نہ کرتی۔وہی تدریج جو عدالت کو حضرت مرزا صاحب کے دعاوی میں نظر آئی عیسائی مستشرقین کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعاوی میں بھی نظر آتی تھی۔ڈاکٹر ز و یمر اپنی کتاب Sudies in Popular Islam میں لکھتا ہے:۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء تعلیم اور تبلیغ اور دلائل کے ذریعہ سے اپنے مذہب کی اشاعت کی۔ابتدائی سورتوں میں اس نے صرف ایک نذیر (Wamer) ہونے کا دعویٰ کیا، لیکن جب وہ طاقتور ہو گیا اور اپنی نئی حیثیت کا احساس اُسے ہونے لگا تو اس نے تلوار کے استعمال کی اجازت دیدی۔تلوار کے استعمال کے اصول کا یہ ارتقاء ایک اسلامی مصنف ابن عابدین نے بھی تسلیم کیا ہے۔جس کے مطابق جہاد کا حکم تدریجا نازل ہوا۔کیونکہ پہلے پہل رسول اللہ کو صرف اپنا پیغام پہنچانے کا حکم ہوا۔پھر بحث ومباحثہ اور دلائل کے ساتھ قائل کرنے کا ارشاد ہوا۔اور تیسرے مرحلہ پر مومنوں کو سوائے حرمت والے مہینوں کے لڑنے کی اجازت دیدی گئی اور اس کے بعد بلا استثناء ہر موسم میں لڑنے کی مکمل اجازت دیدی گئی۔(سٹڈیز ان پاپولر اسلام صفحہ38مصنفہ ڈاکٹر زویمر) 244