امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 242
47۔عقل اور الہام کا باہمی تعلق۔48۔مجرد عقل کے نقصانات۔49۔قوائے اخلاقیہ اور انوار قلبیہ میں انسانوں کے درمیان تفاوت اور ان سے استدلال۔50۔حق الیقین کے حصول کے لئے عقل کے ساتھ الہام کی ضرورت۔51۔معجزات کی حقیقت۔52۔معرفت کا ملہ کے لئے قانونِ قدرت کا مطالعہ۔53۔عملِ صالح کی حقیقت۔54۔مذاہب غیر کی جہالتیں اور گمراہیاں۔55۔انسان کی ترقیات ثلاثہ۔56۔سلوک کے مراتب۔57 کشوف صادقہ۔58۔عالم روحانی اور عالم جسمانی کی مماثلت۔غرضیکہ ایک طویل سلسلہ مضامین کا اس شان کے ساتھ بیان کیا ہے کہ عصر حاضر کے فلسفہ سے متاثر ذہنوں کو ہر پہلو سے مطمئن کر دے۔اس شان اور اس عظمت کی کتاب کا ذکر یوں کر دینا کہ گویا یہ چند صفحوں کی کتاب ہے اور اس کی عظمت کا اندازہ محض اس کے حجم سے لگانے کی کوشش نہایت غیر عالمانہ اور غیر ثقہ انداز فکر کا آئینہ دار ہے۔وہ لوگ جن کو اُس دور کی ظلمتوں کا سامنا تھا اور جن کی آنکھوں کے سامنے مغربی تعلیم کی یلغار ایک ریلے کی صورت میں مسلمانوں کو بہائے لئے جارہی تھی انہوں نے اس کتاب کو کس نظر سے دیکھا۔اس بارہ میں آپ کے ایک ہمعصر مولوی محمد حسین بٹالوی نے جو ر یو یو اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں کئی اقساط میں شائع کیا اس کتاب کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔چنانچہ 242