امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 239
براہین احمدیہ پر بھی متعصبانہ تبصرہ روارکھا جو نہ صرف غیر متعلق بلکہ سراسر خلاف واقعہ ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ براہین احمدیہ ایک ایسی نادر اور عظیم الشان تصنیف ہے کہ جو آج بھی اہل علم کی عقل کو خیرہ کئے دیتی ہے۔براہین احمدیہ کی عظمت سے نہ مرزا صاحب کے ہمعصر انکار کر سکے نہ ان کے معاندین کو ہی اس سے انکار کی جرأت ہوئی۔ہر چند کہ عدالت نے اظہار تعصب کے طور پر براہین احمدیہ کی مختلف جلدوں کے حجم پر تبصرہ کیا۔اس کے مضامین کا اشارہ یا کنایہ بھی ذکر کرنا مناسب نہ سمجھا۔یا تو عدالت نے براہین احمدیہ کے مضامین کا مطالعہ ہی نہیں کیا اگر ایسا ہے تو بغیر مطالعہ کئے کتاب پر تبصرہ کرنا علمی دیانتداری کی کوئی قابل رشک مثال نہیں۔اور اگر عدالت براہین احمدیہ کے مضامین سے واقف تھی تو ان مضامین سے صرف نظر کر کے غیر متعلقہ ضمنی امور پر تبصرہ تعصب کی بدترین مثال ہے۔جہاں تک براہین احمدیہ کے مضامین کا تعلق ہے ان کی مختصر فہرست پر ہی نظر ڈال کر ایک صاحب عقل اور صاحب انصاف انسان اس کتاب کی عظمت و اہمیت کا اندازہ کر سکتا ہے۔براہین احمدیہ کے مضامین کا ایک خا کہ یہ ہے۔1۔عقیدہ توحید کے فضائل۔2۔شرک کے نقصانات۔-3 شرک کی نفی میں دلائل عقلیہ و نقلیہ - -4 خلق اللہ اور امر اللہ کے لطیف مضامین۔5۔صفات الہیہ کا باریک مضمون۔قرب الہی سے متعلق مضامین۔7۔ضرورت قرآن۔کلام الہی کا اپنی ذات میں غیر محدود ہونا۔239