امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 238
بھی صفحہ ریکارڈ پر لایا جانا ضروری ہے۔عدالت نے اس کے بعد مزید غیر متعلقہ مباحث کو فیصلہ میں داخل کیا اور مرزا صاحب کے دعوی نبوت کی تاریخ اور ارتقاء کو بیان کر کے اپنے اندرونی تعصب کا اظہار کیا اور فیصلہ کے تقدس کو پامال کیا۔(3) عدالت نے فیصلے کے صفحہ 39 تا 50 میں حضرت مرزا صاحب کی معرکۃ الآراء تصنیف براہین احمدیہ کو اعتراض کا نشانہ بنایا ہے۔براہین احمدیہ کی تصنیف اس کی اشاعت کے وسائل اس کے مضامین کا حجم ، اس کے دلائل کی عظمت کسی مرحلہ پر بھی زیر بحث نہیں آئے مگر عدالت نے ان امور پر مخالفانہ تبصرہ کرنا ضروری سمجھا۔جو عدالت کے تعصب اور جانبداری پر دلالت کرتے ہیں۔عدالت نے جو معاندانہ تبصرہ براہین احمدیہ سے متعلق امور پر کیا ہے۔وہ بھی یکطرفہ، بلا جواز اور غیر متعلق ہے۔زیر نظر سوال کا تعلق صرف آرڈنینس کے قرآن وسنت سے متصادم ہونے یا نہ ہونے سے تھا۔براہین احمدیہ ایک بلند پایہ علمی تصنیف تھی یا کوئی بے مایہ کتاب؟ اس کا مسئلہ زیر بحث سے کوئی تعلق نہیں تھا۔اگر براہین احمدیہ کے دلائل کمزور اور بے حقیقت تھے تو اس سے آرڈینینس قرآن وسنت کے مطابق نہیں ٹھہر سکتا تھا اور اگر مرزا صاحب نے یہ کتاب دنیاوی مقام مرتبہ اور شہرت کے حصول کے لئے ہی لکھی تھی اور مالی منفعت ہی ان کا مقصود تھا تو پھر بھی آرڈینینس قرآن وسنت کے مطابق کیسے ہو گیا؟ آرڈینینس کے جواز یا بطلان کا براہین احمدیہ کے مقام ومرتبہ یا اس کی تصنیف کے اغراض ومقاصد کا قطعاً اس بات سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں تھا مگر عدالت نے اپنے فیصلہ میں 238