امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 233 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 233

صدیق، حضرت جارو د بن معلی (صحابی رسول) ، حضرت حسن بن علی، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت امام مالک، حضرت امام عبدالوہاب جبائی، حضرت ابو جعفر محمد بن علی بن حسین بن موسیٰ، حضرت امام ابن حزم، حضرت سید علی ہجویری داتا گنج بخش ، حضرت امام ابو جعفر محمد بن جریر الطبری، علامہ زمخشری، امام فخر الدین رازگی، حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی ، حضرت شمس تبریز ، امام سراج الدین عمر بن الوردی، حضرت امام ابن قیم، حضرت امام عبدالوہاب شعرائی، حضرت محمد اکرم صابری ، علامہ شوکانی ، علامہ ابو عبد اللہ محمد بن یوسف اور عصر حاضر میں سے علامہ مفتی محمد عبدہ ، علامہ رشید رضا ایڈیٹر المنارمصر،الاستاذ محمود شلتوت سابق مفتی مصر، الاستاذ مصطفى المراغى، الاستاذ عبدالکریم شریف ، الاستاذ عبدالوہاب النجار، ڈاکٹر احمد ز کی ابو شادی اور علماء ہند و پاکستان میں سے مولا نا عبید اللہ سندھی ،سرسید احمد خاں، مولانا ابوالکلام آزاد، علامہ اقبال ، علامہ مشرقی ، غلام احمد پرویز، سبھی وفات مسیح کے قائل ہیں۔اور اگر حضرت عیسی علیہ السلام وفات پاچکے ہیں اور ان کی آمد ثانی کا عقیدہ بھی جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے حضور ہی کے ارشادات پر مبنی ہے تو پھر حضرت عیسی علیہ السلام کی آمدان کے ایک مثیل کی آمد ہی ہو سکتی ہے۔اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔مسیح کی آمد ثانی کے عقیدہ میں تیرہ صدیوں کا تواتر ہے۔عدالت نے بھی اس کی تائید میں حوالہ جات نقل کئے ہیں۔لہذا جماعت احمدیہ کے بارے میں یہ قرار دینا کہ گویا عقائد کا بنیادی اختلاف مسلمانوں اور احمدیوں کے درمیان موجود ہے۔بالبداہت غلط ہے۔الغرض فاضل عدالت نے ختم نبوت کے عقیدہ کو احمدیوں اور مسلمانوں کے دیگر مکاتب فکر کے درمیان بنیادی اختلاف قرار دینے میں صریحاً غلطی کی ہے اور یہ حصہ خالص عقائد کی بحث سے تعلق رکھتا ہے اور عدالت اس میں دخل اندازی کی مجاز نہ تھی اور یہ حصہ حذف کئے جانے کے لائق ہے۔233