امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 229
وَإِذْ قَالَ اللهُ يَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنْتَ قُلتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِي وَأُمِّى إِلهَيْنِ مِنْ دُوْنِ اللهِ قَالَ سُبْحَنَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُوْلَ مَا لَيْسَ لِيْ بِحَقِّ - إِنْ كُنْتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا أَمَرْتَنِي بِهِ أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيداً مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ(المائده : 118,117) اس آیت میں حضرت مسیح اپنی وفات کا اقرار کرتے ہیں اور آپ کا اپنی قوم کے بارہ میں یہ کہنا کہ خداوندا! جب تو نے مجھے وفات دیدی تو میرے بعد تو ہی ان کا نگہبان تھا۔صاف شہادت دے رہا ہے کہ وہ دنیا سے ہمیشہ کے لئے وفات پاگئے۔کیونکہ اگر ان کا دنیا میں پھر آنا مقدر ہوتا تو ضرور ان دونوں واقعات کا ذکر کرتے اور اپنے نزول کے بعد کی تبلیغ کا بھی ذکر کرتے۔اس صورت میں حضرت عیسی یہ نہیں کہہ سکتے کہ مجھے عیسائیوں کے بگڑنے کی کوئی خبر نہیں جو شخص دوبارہ دنیا میں آیا اور چالیس برس رہا اور جس نے صلیب کو توڑا اور تمام عیسائیوں کو مسلمان کیا ہو وہ کیونکر قیامت کے روز جناب الہی میں یہ عرض کر سکتا ہے کہ مجھے عیسائیوں کے بگڑنے کی کوئی خبر نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ قرآن شریف میں حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کا مضمون کئی پہلوؤں سے مذکور ہے اور جتنا زور اور وضاحت قرآن شریف میں آپ کی وفات سے متعلق ہے کسی اور نبی کی وفات کے بارہ میں نہیں۔سورہ مائدہ کی مذکورہ بالا آیت میں آپ کی وفات کے ذکر کے ساتھ ضمنا آپ کی طرف منسوب کئے جانے والے الوہیت مسیح و تثلیث کے عقیدہ کا رڈ بھی ہے۔اس کے علاوہ بھی 229