امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 228 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 228

نبی تھے اور جو حضور کی بعثت سے قریباً چھ صد سال قبل مبعوث ہوئے تھے وہ اپنے جسد عنصری کے ساتھ انہیں سوسال سے آسمان پر زندہ موجود ہیں اور وہ دوبارہ تشریف لائیں گے اور ان کے دوبارہ تشریف لانے سے حضور کے آخری نبی ہونے کی حیثیت متاثر نہیں ہوتی جب کہ جماعت احمدیہ کے نزدیک حضرت عیسی ابن مریم طبعی موت سے وفات پاچکے ہیں اور ان کی آمد ثانی کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات مثیل مسیح کی آمد سے ہی پورے ہو سکتے ہیں۔یہی رائے صوفیائے اُمت کے ایک گروہ کی ہے گو یا بنیادی اختلاف تعیین شخصی کا ہے۔پس جماعت احمدیہ اور چودھویں صدی کے علماء کے درمیان اصل اور بنیادی اختلاف ختم نبوت یا آیت خاتم النبین کا نہیں ہے بلکہ بنیادی اختلاف حضرت عیسی کی وفات یا حیات کے بارے میں ہے۔یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ حضرت عیسی کی دوبارہ آمد سے ختم نبوت پر زد اس لئے نہیں پڑتی کہ وہ آنحضرت صلعم کی امت میں سے ہو کر آئیں گے۔آپ ہی کا قبلہ اپنا ئیں گے اور کوئی نئی شریعت نہیں لے کر آئیں گے۔اگر تو وہ زندہ بجسد عنصری آسمان پر موجود ہیں تو بعینہ انہی کی واپسی متوقع ہے اور اگر قرآن حکیم پکار پکار کر یہ اعلان کرے کہ حضرت عیسی وفات پاچکے ہیں تو پھر ان کی دوبارہ آمد کی پیشگوئی ان کے کسی مثیل کی آمد کی پیشگوئی ٹھہرے گی۔لہذا اصل قضیہ حضرت عیسی کی حیات یا وفات ہے۔جب ہم اس امر کا جائزہ لینے کیلئے تحقیق اور جستجو سے کام لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت میسی کی وفات از روئے قرآن از روئے اناجیل اور از روئے احادیث ایک ثابت شدہ حقیقت ہے۔چنانچہ سورۃ مائدہ میں حضرت عیسی اور خدا تعالیٰ کے درمیان ایک مکالمہ درج ہے جو قیامت کے روز ہوگا فرماتا ہے :۔228