امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 223 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 223

لینے کے بعد حسب ذیل امور نمایاں ہو کر سامنے آتے ہیں:۔اول : یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا۔جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو منسوخ کرے اور شریعت جدیدہ پیش کرے۔دوم : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت مسلمہ میں ایسے نبی کی آمد کو جائز سمجھا گیا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی ہو اور آپ ہی کی شریعت کے تابع رہ کر اس کے احیاء کا فریضہ بجالائے اور اپنا کوئی نیا کلمہ جاری نہ کرے۔سوم : ایسی آیات یا احادیث جو ختم نبوت سے تعلق رکھتی ہیں بزرگان دین نے ان کی تشریح اور وضاحت کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ اسی قدر استنباط کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد شارع نبی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت جدیدہ کے تابع اور امتی نبی آسکتا ہے۔مندرجہ بالا تینوں شقیں آنحضرت ﷺ کے مبارک عہد سے لے کر حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے ظہور تک امت میں بالا تفاق مسلم رہی ہیں۔یہ تینوں باتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں موجود و مسلم تھیں۔خلفائے راشدین کے زمانہ میں بھی امت مسلمہ انہی عقائد پر متفق تھی۔اسلام کی ابتدائی تین صدیوں میں بھی اُمت مسلمہ ان عقائد پر قائم تھی ( اور اس کے بعد حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے دعوی تک ان تینوں باتوں میں کسی اختلاف کا ادنی سا ثبوت تو کیا کوئی اشارہ بھی نہیں مانتا ) اب محض حضرت مرزا صاحب کی مخالفت میں ان مسلمات کو چھوڑ نا تیرہ صدیوں کے اجماعی عقیدہ سے انحراف ہے۔فاضل عدالت نے امام غزالی کی کتاب "الاقتصاد فی الاعتقاد کا حوالہ بھی اس امر کی تائید کے لئے درج کیا ہے کہ ختم نبوت کے عقیدہ پر اجماع سے انکار کرنے والا صریحاً دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔حالانکہ امام غزالی کی کتاب ” الاقتصاد فی الاعتقاد کا نام ہی 223