امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 220 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 220

پر غیر مشروط آخری نبی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں سمجھتے تھے اور آخری نبی ہونا ان کے نزدیک مخصوص معنوں میں تھا مگر ان حوالہ جات سے قطع نظر خود عدالت نے اپنے فیصلہ میں جن بزرگوں کے حوالہ جات نقل کئے ہیں وہ بھی عدالت کے اس ادعا اور مفروضہ کی نفی کرتے ہیں کہ تمام مکاتب فکر کے مسلمان قطعی طور پر حضور کو آخری نبی مانتے ہیں۔چنانچہ عدالت نے علامہ زمخشری کی تفسیر کشاف میں سے جوحوالہ نقل کیا ہے وہ یہ ہے:۔اگر آپ سوال کریں کہ جب یہ عقیدہ ہو کہ اللہ کے نبی حضرت عیسی قیامت سے پہلے آخری زمانہ میں نازل ہونگے تو پھر رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی کیسے ہو سکتے ہیں؟ میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس معنی میں آخری نبی ہیں کہ ان کے بعد کوئی اور شخص نبی کی حیثیت سے مبعوث نہ ہوگا۔رہا حضرت عیسی کا معاملہ تو وہ ان انبیاء میں سے ہیں جنہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نبوت سے سرفراز کیا گیا تھا اور جب وہ دوبارہ آئیں گے تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے متبع ہوں گے اور انہیں کے قبلہ (الکعبہ) کی طرف رخ کر کے نماز پڑھیں گے جیسا کہ امت کے دوسرے افراد کرتے ہیں۔(الكشاف جلد 3 صفحه 265 زیر آیت سورۃ احزاب آیت ماكان محمد اباء بيروت) اسی طرح عدالت نے علامہ بیضاوی کی تفسیر انوار التنزیل کا بھی حوالہ درج کیا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے:۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انبیاء کی آخری کڑی ہیں جنہوں نے ان کے سلسلہ کو ختم کر دیا ہے اور سلسلہ نبوت پر مہر لگا دی ہے اور حضرت عیسی کی بعثت ثانیہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کی تردید نہیں ہوتی۔کیوں کہ جب وہ آئیں گے تو انہی کی شریعت کے پیروکار ہوں گئے“۔(انوار التنزيل جلد4صفحه 233 زیر آیت احزاب آیت ماکان محمد ابا احد۔۔۔۔۔۔آیت 40 (بیروت 220