امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 219 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 219

اور نیز فرمایا:۔قوله صلی الله عليه وسلم لانبی بعدی ولارسول بعدی ای مَاثُمَّ من يشرع بعدى شريعة خاصةً“۔(اليواقيت والجواهر جلد2صفحه 39 مطبوعه 1351 مصر) دو یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول لانبـي بـعـدى ولارسول سے مراد یہ ہے کہ آپ کے بعد کوئی شخص شریعت خاصہ کے ساتھ تشریعی نبی نہیں ہوگا“۔اور فقہ حنفیہ کے جلیل القدر امام حضرت ملاعلی قاری فرماتے ہیں:۔66 اما الحديث "لا وحى بعد موتى باطل ولا اصل لهـ نعم ورد لانبى بعدى ومعناه عند العلماء لا يحدث بعده نبی بشرع ينسخ شرعه الاشاعة فى اشراط الساعة صفحه149 بيروت) یعنی حدیث لاوحـى بـعـدمـوتـی “باطل اور بے اصل ہے۔ہاں حدیث میں ” لانبی بعدی وارد ہے اور اس کے معنے علماء کے نزدیک یہ ہیں کہ آئندہ کوئی ایسا نبی پیدا نہ ہو گا جو ایسی شریعت لے کر آئے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو منسوخ کرے“۔غرض یہ ایک طویل علمی بحث ہے اور اس کے بہت سے پہلو ہیں اور جس قدر تفصیل سے مطالعہ کیا جائے۔اس مضمون کے مختلف گوشے واضح ہوتے چلے جاتے ہیں اور سائلان اہل نظر کو کھلی دعوت دیتے ہیں کہ اس مسئلہ پر تحقیق و جستجو سے کام لیں۔مگر عدالت کا یہ ارشاد بہر حال درست نہیں کہ تمام مکاتب فکر کے مسلمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلق طور پر آخری نبی مانتے ہیں۔جملہ حوالہ جات جو ہم نے پیش کئے ہیں وہ امت مسلمہ کے جلیل القدر ائمہ اور اولیاء کے ہیں اور ان کے مندرجہ بالا ارشادات سے واضح ہے کہ وہ قطعی طور 219