امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 218 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 218

ان النبوة التي انقطعت بوجود رسول الله صلى الله عليه وسلم انما هي نبوة التشريع لامقامها فلا شرع يكون ناسخاً لشرعه صلى الله عليه وسلم ولا يزيدفي حكمه آخر وهذا معنى قوله صلى الله عليه وسلم ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدى ولا نبى اى لانبى بعدى يكون على شرع يخالف شرعى بل اذا كان يكون تحت حكم شريعتي (فتوحات مکیه جلد2 صفحه 73 بيروت) ترجمہ:۔” وہ نبوت جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باجود پر منقطع ہوئی ہے۔وہ صرف تشریعی نبوت ہے مقام نبوت بند نہیں ہوا۔اب کوئی شریعت نہ ہو گی جو آپ کی شریعت کو منسوخ کرے۔یا آپ کی شریعت میں کسی حکم کا اضافہ کرے اور یہی معنی ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے کہ ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدى ولا نبی۔یعنی ایسا کوئی نبی نہیں ہوگا جو میری شریعت کے خلاف شریعت رکھتا ہو۔بلکہ جب بھی کوئی نبی ہوگا تو میری شریعت کے حکم کے ماتحت ہوگا“۔ایسا ہی حضرت امام عبدالوہاب شعرائی کا ارشاد ہے:۔اعلم ان النبوة لم ترتفع مطلقاً بعد محمد صلى الله عليه وسلم وانما ارتفع نبوة التشريع فقط“۔(اليواقيت والجواهر جلد2 صفحه 24 سن اشاعت 1351ھ مصر) یعنی جان لو کہ مطلق نبوت بند نہیں ہوئی صرف تشریعی نبوت بند ہوئی ہے۔218