امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 216 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 216

مسئلہ میں بڑا واضح اور عیاں ہے اور عدالت سے یقینا مخفی نہیں ہوسکتا تھا۔کیونکہ عدالت کے دو فاضل حج ارکان خورد یو بندی مسلک سے تعلق رکھتے تھے اور بانی دیوبند کا مسلک سائلان کی طرف سے اختصار کے ساتھ ضمنی بحث میں تحریری طور پر پیش کر دیا گیا تھا اور اگر ان کا عقیدہ عدالت کے علم میں کسی سہو کی وجہ سے نہیں آسکا تھا تو سائلان کا خلاصہ بحث مطالعہ کر لینے کے بعد یقیناً عدالت کے علم میں آچکا تھا۔مگر عدالت نے اس بارے میں کوئی رائے یا تبصرہ کرنا مناسب نہیں سمجھا۔بائی دیوبند کی تحریرات اور ان کا عقیدہ اگر اہل دیوبند کو قبول نہیں تو اس کا طبعی نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ بانی دیوبند پر بھی کفر کا فتویٰ صادر ہو۔کیونکہ عقیدہ ختم نبوت میں ان کا اور جماعت احمدیہ کا اتفاق ہے۔بہر صورت بانی دیوبند کے عقیدہ کو اگر اہل دیو بندامت کے متفقہ عقیدہ کے خلاف سمجھتے ہوں یا اسے غلط تصور کرتے ہوں تو بھی عدالت کا یہ ارشاد یقینا غلط ثابت ہوتا ہے کہ تمام مکاتب فکر کا متفقہ عقیدہ حضور کے قطعی اور غیر مشروط طور پر آخری نبی ہونے کا ہے۔حضرت مولا نا محمد قاسم صاحب نانوتوی اپنی کتاب تحذیر الناس میں لکھتے ہیں:۔سو عوام کے خیال میں تو رسول اللہ صلعم کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد اور آپ سب میں آخری نبی ہیں۔مگر اہل فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم و تأخیر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں پھر مقام مدح میں ولکن رسول الله وخاتم النبیین فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہوسکتا ہے"۔پھر فرمایا:۔( تحذیر الناس صفحہ 28 مطبوعہ خیر خواہ سرکار پر میں سہارنپور 1309ھ ) اگر بالفرض بعد زمانہ نبی صلعم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدیؒ 216