امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 211 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 211

بھی کا فراور ان کا نکاح کوئی نہیں“۔(جواهر القرآن صفحه60 مولوی غلام اللہ خان راولپنڈی) جو انہیں کا فرومشرک نہ کہے وہ بھی ایسا ہی کافر ہے۔(جواهر القرآن صفحه 77) اگر ایسا طرز استدلال درست نہیں تو پھر فاضل عدالت کا اپنے فیصلہ میں 152 صفحات تک محض سائلان کے عقائد یا مرزا صاحب کے دعاوی کو زیر بحث لانا الٹی منطق اور انصاف کا خون ہے۔در اصل کسی قانون یا آرڈنینس کے قرآن وسنت کے احکام کی روشنی میں جواز یا بطلان کی بحث میں کسی فریق کے عقائد کو زیر بحث لانا ہی غلط اور غیر ضروری ہے۔آرٹیکل نمبر D-203 میں کوئی بھی شہری کسی قانون کو اس بنیاد پر چیلنج کر سکتا ہے کہ وہ قرآن وسنت کے اصولوں سے متصادم ہے۔اگر پاکستان کا کوئی عیسائی کسی قانون کو D-203 کے تحت چیلنج کرے تو اس کے عقائد زیر بحث نہیں آئیں گے۔صرف قرآن وحدیث ہی زیر بحث آئیں گے۔یہ اصول اتنا واضح اور روشن ہے کہ اس کے لئے کسی دقیق نکتہ رسی کی ضرورت نہیں۔اسی سوال کو ذرا وسیع تناظر میں دیکھیں تو بات اور واضح ہو جائے گی۔اگر عیسائی ملک میں مسلمان اقلیت کی دینی سرگرمیوں پر کوئی قانونی قدغن عائد کر دیجائے اور مسلمان اس بنیاد پر اسے چیلنج کریں کہ ایسا قانون اس ملک کی مسلمہ دستوری بنیادوں کے خلاف ہے تو کیا عدالت کو یہ اختیار ہو گا کہ وہ حضرت اقدس محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر عائد کردہ تمام ایسے نا پاک اور گندے اور ذلیل اعتراضات جو عیسائی مستشرقین نے کئے ہیں اپنے فیصلہ میں جڑ دیں۔جن کے پڑھنے سے خون کھولتا اور جن کے بیان سے زبان لرزتی اور جن کے لکھنے سے قلم 211