امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 210
اور کیا مولانا قاسم نانوتوی ، رشید احمد گنگوہی، خلیل احمد انہی اور اشرف علی تھانوی اور ان کے ساتھ والوں کے خلاف عبدالکریم طرابلسی حنفی کے قول کے مطابق ” ان پر کفر کا حکم ہوگا اور مرتدوں کی طرح ان کو قتل کر دیا جائے گا“۔(حسام الحرمين على۔الكفر والمين صفحه 73 تا 76 مصنفه مولوی احمد رضا خان بریلوی مطبع اهل سنت جماعت بریلوی 1324ھ) کیا بریلوی منصفین اس بنیاد پر دیوبندیوں کی درخواست خارج کر دیں گے کہ چونکہ ان کے عقائد سے کفر لازم آتا ہے لہذا جس قانون کو وہ خلاف قرآن وسنت ہونے کی بنیاد پر چیلنج کر رہے ہیں وہ خلاف قرآن وسنت نہیں رہا۔اسی طرح اگر بریلوی مکتب فکر کا کوئی سائل کسی قانون کو خلاف قرآن وسنت ہونے کی بنیاد پر چیلنج کرے اور عدالت کے ارکان دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہوں تو کیا ان کے لئے یہ جائز اور روا ہو گا کہ وہ قرآن وسنت کی بحث اُٹھانے کی بجائے بریلویوں کے خلاف لکھی گئی کتابوں سے دیوبندی حضرات کے فتاوی فیصلہ میں شامل کریں اور کہیں کہ فتاوی رشد یہ کے مطابق :- وو ” جب انبیاء کو علم غیب نہیں تو یا رسول اللہ بھی کہنا نا جائز ہوگا۔اگر یہ عقیدہ کر کے کہے کہ وہ دور سے سنتے ہیں بسبب علم غیب کے تو خود کفر ہے“۔(فتاوی رشدیه صفحه 176 جلد 3 از مولانا حافظ رشید احمد گنگوہی ، مطبع کاروان پرنٹنگ پریس لاہور ) یا کیا عدالت یہ فیصلہ کرے گی کہ مولوی فردوس علی قصوری کے فتویٰ کے مطابق :- حضور کو حاضر و ناظر عالم غیب ماننے والے سب کا فر و مشرک ہیں فتوی مولوی فردوس علی قصوری از اصلوۃ والسلام صفحہ 12 بحوالہ کتاب علماء دیوبند از علامہ محمد شریف نوری) یا دیوبندیوں کے شیخ القرآن مولوی غلام اللہ خان کے فتویٰ کے مطابق قرار دے گی کہ:۔حضور کو حاضر ناظر جاننے والے پکے کافر ہیں۔جو ان کو کافر نہ کہے وہ 210