امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 209
(فتوى مولوی ابوالريان محمد رمضان وابوالبرکات سید احمد ناظم و مفتی دارالعلوم مرکزی انجمن حزب الاحناف لاهور حواله از شیعه سنی اتحاد کے لئے مخلصانہ اپیل مرتبه ابویزید محمد دین بٹ چوک شہید گنج لنڈا بازار لاهور) ظاہر ہے کہ شیعوں کے خلاف فتاویٰ کا اس سوال سے کوئی تعلق نہیں ہوگا کہ وہ قانون جسے کوئی شیعہ خلاف قرآن وسنت خیال کر رہا ہے۔اسے اس بنیاد پر جائز قرار دے دیا جائے کہ ان کے عقائد غلط ہیں۔اور ان کی تکفیر لازم۔اگر ایسا نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر سائلان کی درخواست پر یہ بحث اُٹھانا کہ ان کے عقائد یا حضرت مرزا صاحب کے دعاوی غلط ہیں اور ان سے تکفیر لازم آتی ہے واضح طور پر غلط طرز استدلال ہے۔اسی طرح سے اگر عدالت کے جملہ اراکین بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہوں اور کوئی سائل دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھتا ہو اور کسی قانون کو خلاف قرآن وسنت ہونے کی وجہ سے اس عدالت میں چیلنج کر دے تو کیا بریلوی منصفین اس بات میں حق بجانب ہوں گے کہ وو دیو بندیوں کے خلاف جناب احمد رضا خاں بریلوی کے فتاوی درج کر کے یہ قرار دیں کہ یہ سب کے سب مرتد ہیں۔” باجماع امت اسلام سے خارج ہیں“۔” ان کے کفر میں کوئی شبہ نہیں نہ شک کی مجال۔یہ گمراہان گمراہ گر فاجر کا فردین سے خارج ” بد مذہب مفسد گمراہ طاعت سے نکلے ہوئے دہریے دین سے خارج سو کافروں سے دین میں ان کی مضرت سخت تر ہے۔(حسام الحرمين على منحر الكفر والمين صفحه 73 تا 76 مصنفه مولوی احمد رضا خان بریلوی مطبع اهل سنت جماعت بریلوی 1324ھ) اور کیا اسماعیلی خلیلی عالم مکہ کے اس فتویٰ پر انحصار ہوگا جس میں دیوبندیوں کے بارہ میں قادیانیوں کے ساتھ بیک قلم یہ فتویٰ دیا گیا کہ:۔وو جو ان کے کفر میں شک کرے بلکہ کسی طرح کسی حال میں انہیں کافر کہنے میں توقف کرے اس کے کفر میں بھی شبہ نہیں“۔209