امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 208 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 208

کی مجاز ہو گی کہ ایسے خیال والے لوگ ہرگز مسلمان نہیں روکتے اور کیا عدالت علامہ ابن نجیم کی کتاب بحر الرائق ( بحر الرائق جلد 5 صفحہ 136۔مطبوعہ مصر) پر انحصار کر کے شیخین کی دُشنام دہی اور ان پر طعن کی بنیاد پر فتاوی عالمگیری ( فتاوی عالمگیری جز نمبر 2 صفحہ 283) پر انحصار کر کے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت کے انکار کی وجہ سے شیعوں کو کا فرقراردے دے گی۔کیا یہ درست اور جائز ہوگا کہ سنی عدالت علمائے کرام کے متفقہ فتوے کے حوالے سے شیعوں کو مرتد اور کا فرقرار دے کر یہ قرار دے کہ ان سے مناکحت اور تعلقات رکھنا حرام ہے“۔اور یہ کہ ان کی ” شادی نمی جنازہ میں شرکت ہرگز نہ کی جائے۔کیونکہ ایسے عقیدہ کے شیعہ کافر ہی نہیں بلکہ اکفر ہیں۔اور اثنا عشریہ شیعہ خارج از اسلام ہیں۔( علمائے کرام کا متفقہ فتوی درباب ارتداد شیعه اثنا عشریه ناشر مولوی محمد عبدالشكور مدير انجم لكهنئو) کیا سنی العقیدہ حنفی عدالت فیضان دار العلوم حزب الاحناف کا یہ فتوی نقل کرے گی کہ :۔"جو شخص سید نا ابو بکر صدیق اور سید نا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کو (نعوذ باللہ ) منافق ، غاصب اور شیطان کہتا ہے وہ کافر و مرتد ہے دائرہ اسلام سے خارج ہے۔دو اور کیا یہ درست ہوگا کہ عدالت صدر الشہید کا یہ قول نقل کرے کہ :۔جو شیخین کو بُرا کہے یا ان پر لعنت کرے وہ کافر ہو جائے گا اور اس کا قتل کرنا واجب ہے ( مرتد کوقتل کرنا حکام کا کام ہے ) اور اس قسم کے بدعقیدہ اور گمراہوں کے حق میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ان کے ساتھ مت بیٹھو، مت کھاؤ ، مت پیو، نماز جنازہ نہ پڑھو، ان کے ساتھ نماز مت پڑھو، ان کی بیمار پرسی نہ کر والہذا ایسے بھائیوں سے میل جول رکھنا جائز نہیں اور نہ ان کو مسلمان سمجھنا روا۔208