امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 207 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 207

کی مجاز ہے اور نہ ہی کسی عدالت کا یہ حق تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ وہ ایمانیات پر کوئی فیصلہ صادر کرے۔کیونکہ ایمانی امور کا معاملہ خدا اور بندے کے درمیان ہے اور کوئی عدالت نہ اس میں دخل دے سکتی ہے اور نہ کسی عدالت کا یہ اختیار تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے مذہبی عقائد کی قبا اوڑھ کر مسند انصاف پر بیٹھے اور سائل کو اعتقادی طور پر فریق مخالف قرار دے کر اس کے عقائد کو متہم کرے یا ان پر رائے زنی کرے۔وفاقی شرعی عدالت کلیۂ ایسے ارکان پر مشتمل تھی جو احمدی نہیں تھے اور عقید تا اس بات پر مجبور تھے کہ وہ مرزا صاحب کو سچا نہ سمجھیں اور یوں اعتقادی لحاظ سے گویا ایک فریق تھے مگر نہ تو ان کا یہ عقیدہ فیصلے کی بنیاد بن سکتا تھا اور نہ ہی کوئی بھی متنازع امرزیر بحث آ سکتا تھا۔زیر بحث سوال صرف قرآن وسنت کی تعبیر اور نفاذ کا جو فریقین میں مسلمہ قدر مشترک ہے اور قانون بھی اسی کو فیصلے کا معیار ٹھہراتا ہے۔لہذا فیصلہ کلیۂ قرآن وسنت کی تعبیر پر مبنی ہونا چاہئے تھا اور عقائد کی بحث قطعاً غیر متعلق تھی۔ورنہ اگر کسی ایک فرقے کے افراد پر مشتمل عدالت دوسرے فرقے کے اعتقادات پر رائے زنی کرنے لگے او راپنے متنازع فیہ اعتقادات کو بنیاد بنا کر فیصلہ کرنے لگے تو انصاف ناممکن الحصول ہو جائے۔مثلاً خود وفاقی شرعی عدالت میں شیعہ حضرات کی طرف سے بعض قوانین کو خلاف قرآن وسنت قرار دئے جانے کی درخواستیں داخل ہوئی ہیں۔کیا ان درخواستوں کا فیصلہ کرتے وقت سنی العقیدہ ستعد کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ اپنے فیصلہ میں شیعہ عقائد کی بحث اٹھائیں۔اور یہ فیصلہ صادر کرنے کی سعی فرما ئیں کہ شیعہ اپنے عقائد میں بچے ہیں یا جھوٹے ؟ خلافت بلافصل کا عقیدہ درست ہے یا غلط؟ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی دیگر خلفائے راشدین کے مقابل پر کیا حیثیت تھی؟ کیا سنی العقیدہ عدالت سیدنا حضرت ابو بکرؓ کے بارہ میں شیعوں کے اقوال لکھ کر یہ کہنے 207