امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 198
اور پھر لکھا: یہ تمام دلائل غیر متعلقہ ہیں کیونکہ زیر نظر ordinance قادیانیوں کو اس بات پر مجبور نہیں کرتا کہ وہ اپنا اعتقاد تبدیل کر کے اسلام میں داخل ہو جائیں“۔عدالت نے مزید یہ قرار دیا۔" اسلامی شریعت غیر مسلموں کو مذہب کے اظہار اور اس پر عمل درآمد کو پوری طرح تحفظ فراہم کرتی ہے اور اس بات کی تائید قرآن کی مندرجہ بالا آیات اور مفسرین کی تفسیر سے ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم اور آپ کے قابل احترام خلفاء نے مذہبی آزادی سے متعلق مشرکوں اور غیر مسلموں سے امن اور جنگ کی حالت میں بہترین شرائط پر معاہدے کئے“۔" اذان ، اور مسجد کے نام پر پابندی کے بارے میں لکھا: اذان دینا اور عبادت گاہ کو مسجد کا نام دینا خالص مسلمانوں کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ان الفاظ یا اصطلاحات پر پابندی آئینی ترمیم کے نفاذ کیلئے ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ قادیانی بلا واسطہ یا بالواسطہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر نہیں کر سکتے۔اذان کا ذکر کرتے ہوئے عدالت نے مزید لکھا کہ مسٹر مجیب الرحمن یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اذان ایک اسلامی شعار ہے لیکن ان کا کہنا یہ ہے کہ یہ قادیانیوں کا بھی شعار ہے جہاں کوئی شعار دونوں میں مشترک ہو قرآن شریف کی آیت 2: 5 اور 3:64 کے مطابق طے ہو گا۔اس ضمن میں صفحہ 110 پر فیصلہ کا یہ حصہ دلچسپی کا باعث ہے۔وو " قرآن شریف کی آیت 5:2 کی شانِ نزول پر اختلاف موجود ہے۔سوال یہ ہے کہ آیا آیت مذکورہ میں بیان کردہ شعائر مشرکین کے شعائر تھے یا مسلمانوں کے۔198