امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 13
{2} عدالت میں سماعت جس روز بحث کا آغاز ہوا خاکسار نے عدالتی معمولات سے ہٹ کر اپنی بحث کا آغاز تشہد اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مسنون خطبہ الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِيْنُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنُؤْمِنُ بِهِ وَنَتَوَكَّلُ عَلَيْهِ وَنَعُوْذُ بِاللهِ مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا وَ مِنْ سَيِّاتِ أَعْمَالِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَنَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَنَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُ سے کیا۔کمرہ عدالت مولویوں اور مدرسہ کے طالب علموں سے بھرا ہوا تھا اور یہ ایک عجیب تصرف ہی تھا کہ میں نے یہ غیر معمولی طریق اختیار کیا۔یہ گویا پہلا اعلان تھا کہ ہم کلمہ شہادت اور محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن چھوڑنے والے نہیں۔دینی مدارس کے طالب علم سوچتے تو ہوں گے کہ یہ کیسا غیر مسلم ہے جو اپنی گفتگو کا آغاز مسنون خطبہ سے کرتا ہے۔سماعت کے پہلے ہی روز ہم نے بحث کا آغاز کرنے سے قبل عدالت سے یہ درخواست کی کہ اگر ہماری درخواست کا کوئی جواب حکومت کی طرف سے داخل کیا گیا ہو تو اس کی نقل مہیا کی جائے۔سرکاری وکیل سے استفسار کے بعد عدالت نے بتایا کہ کوئی جواب داخل نہیں کروایا گیا۔اس کے بعد عدالت سے یہ درخواست کی گئی کہ آرڈینینس جاری کرنے سے پہلے اخباری اطلاعات کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل سے رپورٹ طلب کی گئی تھی اس رپورٹ 13