امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 183
حکومت کو مٹانے کی کوشش کر رہی تھی اس وقت تک یہ ملک دارالحرب تھا لیکن جب مسلمان مغلوب ہو گئے اور اپنے اپنے پرسنل لاء کے تحت آزادی سے رہنا قبول کر لیا تو یہ ملک دار الحرب نہیں رہا۔(سود حصه اوّل حاشیه صفحه 137از مودودی) مولوی چراغ علی صاحب نے اپنی کتاب " تحقیق الجہاد“ میں لکھا کہ آنحضرت ﷺ نے صرف دفاعی جنگ کی اجازت دی ہے۔(تحقيق الجهاد صفحه 156 از مولوی چراغ علی، ترجمه مولوی غلام اکنین و مولوی عبد الغفور مطبوعہ لاہور ) جہاد کے بارہ میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے جو حوالے عموماً پیش کئے جاتے ہیں وہ مذہبی آزادی کے اس دور کے پُر امن حالات کے پیش نظر شرائط جہاد کے مفقود ہونے کی وجہ سے وقتی عدم وجوب کے فتویٰ کی حیثیت رکھتے ہیں۔آپ نے غیر مشروط طور پر جہاد کے دائمی منسوخ ہونے کا کبھی ذکر نہیں فرمایا بلکہ اس کے برعکس فرماتے ہیں:۔1 قرآن شریف صرف ان لوگوں کے ساتھ لڑنے کا حکم فرماتا ہے جو خدا کے بندوں کو اس پر ایمان لانے اور اس کے دین میں داخل ہونے سے روکتے ہیں اور اس بات سے کہ وہ خدا کے حکموں پر کار بند ہوں اور اس کی عبادت کریں اور وہ ان لوگوں سے لڑنے کیلئے حکم فرماتا ہے جو مسلمانوں سے بے وجہ لڑتے ہیں اور مومنوں کو ان کے گھروں سے اور وطنوں سے نکالتے ہیں اور خلق اللہ کو جبراً اپنے دین میں داخل کرتے ہیں اور دین اسلام کو نابود کرنا چاہتے ہیں اور لوگوں کو مسلمان ہونے سے روکتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا تعالیٰ کا غضب ہے اور مومنوں پر واجب ہے کہ ان سے لڑیں اگر وہ باز نہ آئیں۔(اُردو ترجمه از نورالحق - حصه اوّل صفحه 45 روحانی خزائن جلد8 صفحه 62) 2۔اس زمانہ میں جہاد روحانی صورت سے رنگ پکڑ گیا ہے اور اس زمانہ میں جہاد یہی ہے کہ 183