امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 182 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 182

ان سب کتب کا نقطہ مرکزی یہ تھا کہ برصغیر ہندوستان میں چونکہ انگریز نے مذہبی آزادی دے رکھی ہے اس لئے جہاد جائز نہیں۔اس کے علاوہ جہاد کی جو دیگر شرائط ہیں وہ بھی پوری نہیں ہو رہی ہیں لہذا ہندوستان میں جہاد جائز نہیں۔یہ انگریز کی کسی قسم کی کاسہ لیسی نہیں تھی۔اسلام تو عملی مذہب ہے۔حالات کے تقاضے کے تحت بہترین راستہ تجویز کرتا ہے۔جہاد کا مسئلہ مرزا صاحب کے دعوے سے بہت پہلے طے ہو چکا تھا۔آج تو ہم کو یہ کہا جا رہا ہے کہ ہم انگریز کے بڑے وفادار تھے لیکن انگریز کے وقت میں کیفیت یہ تھی کہ انگریزوں سے یہ کہا جاتا تھا کہ یہ انگریزی حکومت کے مخالف ہیں اور اس کو ختم کر دیں گے۔چنانچہ مولوی کرم دین صاحب نے اپنی کتاب ” تازیانہ عبرت“ میں لکھا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی مہدی سوڈانی سے زیادہ فساد پھیلائے گا اس لئے انگریزوں کو اس کی کارروائیوں کا نوٹس لینا چاہئے اور خود کو اور دیگر اہل اسلام کو انگریزوں کا وفادار قرار دیا“۔تازیانه عبرت صفحه 93) سول اینڈ ملٹری گزٹ نے اپنی 124اکتوبر 1894ء کی اشاعت میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو WellKnown Fanatic قرار دے کر انگریزوں کو مشورہ دیا گیا کہ ان پر پولیس کڑی نظر رکھے۔اس کے علاوہ:۔مولانا ظفر علی خاں صاحب نے اپنے اخبار زمیندار 11 نومبر 1914ء میں انگریز کی وفاداری کی تائید کی ہے۔در اصل جب آزادی ملی تو ذہن بالکل تبدیل ہو گئے۔اس ساری جدو جہد آزادی میں ہم تو شامل تھے اور جو ہمارے مخالف ہیں وہ اس وقت تحریک آزادی پاکستان کے مخالف تھے۔محترم مولانا مودودی صاحب نے لکھا ہے کہ جب تک انگریز کی حکومت مسلمانوں کی 182