امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 180
مولا نا جعفر تھانیسری کے حوالہ سے ہم بتا چکے ہیں کہ ایک ہی وقت میں وہ سکھوں کے خلاف جنگ کو جائز اور انگریزوں کے خلاف جہاد کو نا جائز سمجھتے تھے اور انہوں نے یہ بھی لکھا کہ اگر سکھ اب بھی اپنی ایسی حرکات سے باز آ جائیں تو وہ جہاد سے رک جائیں گے اور کہا کہ انگریزی حکومت گو کا فر ہے مگر چونکہ مذہب کے بارہ میں ظلم و تعدی نہیں کرتی بلکہ اگر کوئی ہم پر زیادتی کرتا ہے تو اس کو سزا دینے پر تیار ہوتی ہے اس لئے ہم اس کے خلاف جہاد نہیں کریں گے۔(سوانح احمدی مرتبه مولوی محمد جعفر تھانیسری صفحه71,45) ان بزرگوں نے انگریز سے ڈر کر نہیں بلکہ درست طور پر انگریزوں کے خلاف جہاد کو نا جائز قرار دیا۔یہ ڈرنے والے لوگ نہیں تھے۔مولانا سید حسین احمد مدنی کا بھی یہی فتویٰ ہے کہ اگر کسی ملک میں سیاسی اقتدار اعلیٰ کسی غیر مسلم کے ہاتھ میں ہو اور وہاں پر اس کے دینی و مذہبی شعائر کا احترام کیا جاتا ہو وہ دار السلام ہو گا اور از روئے شرع وہاں جہاد جائز نہیں بلکہ یہ فرض ہے کہ وہ اس ملک کو اپنا ملک سمجھ کر اس کے لئے ہر نوع کی خیر خواہی اور خیر اندیشی کا معاملہ کریں۔(نقش حیات جلد اوّل، دوم صفحه 418،417 سن اشاعت 1979ء) اس زمانہ میں حنفی مکتب فکر کے مولانا عبدالحی لکھنوی نے بھی یہی فتویٰ جاری کیا کہ:۔ہندوستان دار السلام ہے۔(مجموعه فتاوی عبدالحی صفحه 123 جز اول 1373ھ) مکہ معظمہ کے جملہ مسالک فقہ کے علماء نے بھی یہی فتوے دیئے کہ ہندوستان دار السلام ہے۔(Review of Dr۔Hunter's Indian Musalmansمطبوعه بنارس 1872ء اپنڈکس II) اہل حدیث کے علماء میں سے نواب صدیق حسن نے لکھا کہ حنفیوں کے نزدیک ہندوستان دار السلام ہے اور اس میں جہاد نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس میں عزم جہاد گناہ کبیرہ ہے۔(ترجمان وهابيه صفحه 15مطبوعه 1312ه لاهور) 180