امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 175
سے یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ ظل اور بروز اور تناسخ، مجوسی اور ہندوانہ عقائد ہیں اور اسلام میں ان کی کوئی حیثیت نہیں۔حالانکہ علامہ اقبال کو اس بات کا خودا قرار تھا کہ مذہب کے بارہ میں ان کی معلومات کا دائرہ نہایت محدود ہے اور وہ مستشرقین سے زیادہ متاثر تھے جیسا کہ انہوں نے صوفی غلام مصطفی تبسم کے نام 2 ستمبر 1925ء کے خط میں لکھا:۔” میری عمر زیادہ تر مغربی فلسفہ کے مطالعہ میں گزری ہے۔اور یہ نقطۂ خیال ایک حد تک طبیعت ثانیہ بن گیا ہے۔دانستہ یا نادانستہ میں اسی نقطۂ نگاہ سے حقائق اسلام کا مطالعہ کرتا ہوں“۔وو اقبال نامہ حصہ اوّل مرتبہ شیخ عطاء اللہ ایم اے صفحہ 47 پروفیسر غلام مصطفی تبسم کے نام خط نمبر 1 سن اشاعت 1945ء) ڈاکٹر اقبال نے بروز کے مسئلہ میں سید سلیمان ندوی کے نام ایک خط لکھا کہ :۔حال کے ہیئت دان کہتے ہیں کہ بعض سیاروں میں انسان یا انسانوں سے اعلیٰ تر مخلوق کی آبادی ممکن ہے کہ اگر ایسا ہو تو رحمتہ اللعالمین کا ظہور وہاں بھی ضروری ہے۔اس صورت میں کم از کم محمدیت کے لئے تناسخ یا بروز لازم آتا ہے۔اقبال نامہ حصہ اوّل مرتبہ شیخ عطاء اللہ ایم اے صفحہ 47 خطوط بنام سید سلمان ندوی خط نمبر 24) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر اقبال غالباً آخر تک بروز کے مسئلہ میں الجھن کا شکار تھے۔لیکن اس میں شک نہیں کہ تصوف اسلامی کے لٹریچر میں بروز اور ظل کا تصور موجود رہا ہے۔اور بالخصوص مہدی کے ظہور کے سلسلہ میں اس کا ذکر آتا رہا ہے۔جیسا کہ چشتیہ صابریہ سلسلہ کے مشہور بزرگ اپنی کتاب اقتباس الانور“ میں لکھتے ہیں :۔"روحانیت کمل گا ہے برار باب ریاضت چناں تصرف می فرمائند که فاعل افعال او میگردو و این مرتبه را صوفیاء بروز می گویند ( اقتباس الانوار صفحه 51 از شیخ محمد اکرم صابری) 175