امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 174 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 174

نسبت تو فقط خاتم النبین شاہد ہے۔نیز فرماتے ہیں:۔" بالفرض اگر بعد زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہیں آئے گا۔(تحذیر الناس صفحه 28 مطبعه 1309ه سهارنپور) فاضل وکیل سرکار نے اس بات پر بہت کچھ زور مارا ہے کہ مرزا صاحب کو مسیح موعود اور مہدی مان کر جماعت احمد یہ امت مسلمہ سے خارج ہوگئی ہے اور اس کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں رہا۔ہم یہ پوچھتے ہیں کہ ان کے عقیدہ کے مطابق جب مسیح موعود اور مہدی موعود ظہور فرمائیں گے تو کیا ان پر ایمان لانے والے اور ان کی بیعت کرنے والے ایک علیحدہ امت بن جائیں گے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد یہ ہے کہ جب وہ ظاہر ہو جائے تو برف کی سلوں پر سے گھٹنوں کے بل گھسٹ کر بھی جانا پڑے تو اس کے پاس جاؤ اور اس کی بیعت کرو۔فرمایا:۔فَإِذَا رَأَيْتُمُوْهُ فَبَايِعُوهُ ـ (ابوداؤد كتاب الملاحم) تو کیا تو اس کی بیعت کرنے والے اُمت مسلمہ سے کوئی الگ وجود بن جائیں گے۔یقینا نہیں۔تو پھر اختلاف صرف شخصیت کی تعیین اور شناخت کا ہے۔یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ ہم نے شناخت میں غلطی کھائی لیکن جب بھی عیسی علیہ السلام اور مہدی کا ظہور ہو گا اسے وہ سب کچھ مانا جائے گا جو ہم مرزا صاحب کو مانتے ہیں۔لہذا اس بات سے کوئی اُلجھن پیدا نہیں ہونی چاہئے۔رہی یہ بات کہ ہم نے شناخت میں غلطی کی اور جولوگ انہیں ان کے دعوی میں سچا نہیں سمجھتے تو اس کا انہیں اختیار ہے۔ظل و بروز فاضل وکیل سرکار نے ظلی اور بروزی نبوت کا ذکر کرتے ہوئے علامہ اقبال کے حوالے 174