امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 173 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 173

یہی مسلک گزشتہ صدی تک بالاتفاق تمام علماء اہل سنت کا تھا۔چنانچہ مولا نا عبدائی فرماتے ہیں:۔علماء اہل سنت بھی اس امر کی تصریح کرتے ہیں کہ آنحضرت کے عصر میں کوئی نبی صاحب شرع جدید نہیں ہوسکتا اور نبوت آپ کی عام ہے اور جو نبی آپ کے ہمعصر ہوگا وہ متبع شریعت محمدیہ کا ہوگا۔(مجموعه فناوی مولوی عبدالحی جلد اوّل صفحه 33 مطبوعہ ایجوکیشنل پریس پاکستان چوک کراچی) 16۔بانی دارالعلوم دیو بند حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ (متوفی 1297ھ) نے اس مضمون کو نہایت کھول کر بیان فرمایا ہے :۔اول معنی خاتم النبین معلوم کرنے چاہئیں تا کہ نہم جواب میں کچھ وقت نہ ہو۔سو عوام کے خیال میں تو رسول اللہ کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد ہے اور آپ سب میں آخری نبی ہیں مگر اہل فہم پر روشن ہو گا کہ تقدم یا تاخر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں پھر مقام مدح میں ولکن رسول الله وخاتم النبيين فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہوسکتا ہے۔ہاں اگر اس وصف کو اوصاف مدح میں سے نہ کہئے اور اس مقام کو مقام مدح نہ دیجئے تو البتہ خاتمیت باعتبار تاخر زمانی صحیح ہوسکتی ہے مگر میں جانتا ہوں کہ اہل اسلام میں سے کسی کو یہ بات گوارا نہ ہوگی۔پھر فرماتے ہیں:۔وو (تحذیر الناس از مولانا قاسم نانوتوی صفحه 3 طبع 1309ه سهارنپور) حاصل مطلب آیت کریمہ اس صورت میں یہ ہوگا کہ ایقت معروفہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی مرد کی نسبت حاصل نہیں پر ابوت معنوی امتیوں کی نسبت بھی حاصل ہے اور انبیاء کی نسبت بھی حاصل ہے انبیاء کی 173