امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 169 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 169

ترجمہ: یہ اخوان جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنے والے ہیں (جن کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اظہار اشتیاق فرمایا ہے ) انبیاء الاولیاء ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انہیں اپنا اخوان قرار دینے سے مراد یہ ہے کہ ان کو قرب والی نبوت، علم دیئے جانے والی نبوت اور الہی حکمتوں پر مشتمل نبوت ملتی ہے نہ کہ تشریعی نبوت۔کیونکہ تشریعی نبوت آپ پر منقطع ہو گئی ہے۔۔9۔حضرت شاہ بدیع الدین مدار ( متوفی 851ھ) فرماتے ہیں:۔بعد زمانہ اصحاب المرسلین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درجہ وراء الوراء ان تین اولیاء کے سوا اور کوئی اس مرتبہ علیا پر نہیں پہنچا۔اول خواجہ اویس قرنی۔۔۔دوسرے بہلول دانا اور جناب قطب الاقطاب فرد الا حباب محی الدین اس رتبہ میں لاثانی اور سب سے افضل قرار پائے اور یہ مرتبہ ذات معدن صفات میں آپ کی اس طرح ختم ہوا کہ جس طرح جناب رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت اور اصحاب کرام پر خلافت اور علی المرتضیٰ پر ولایت اور حسنین علیہما السلام پر شہادت تمام ہوئی۔(ملفوظ بحواله قرة العينين فى محامدغوث الثقلين صفحه 18 محمد ذاکر حسین علوی 1304هجری مطبع دبدبه احمدی لکهنو ، ناشر محمد عبد الستار خان تاجر کتب چوک لکھنو) 10 - حضرت امام عبدالوہاب شعرانی (متوفی 976ھ) فرماتے ہیں:۔الف: اعلم ان النبوة لم ترتفع، مطلق بعد محمد وانما ارتفعت نبوة التشريح فقط (اليواقيت والجواهر جلد۔دوم صفحه 39 از عبدالوهاب شعرانی طبع اولی مصر 1351ھ) جان لو کہ مطلق نبوت بند نہیں ہوئی صرف تشریعی نبوت بند ہوئی ہے۔نیز فرمایا:۔وقوله صلی الله عليه وسلم لانبی بعدی ولارسول“ ای 169