امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 136 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 136

بھی سنبھال سکتا ہے۔مولانا مودودی صاحب نے بھی تسلیم کیا ہے کہ فوجداری قانون میں ذمی اور مسلمان برابر ہیں۔تحفظ عزت کا پاس کرنا ویسے ہی ضروری ہے جیسے مسلمان کا کیا جاتا ہے اور شخصی معاملات میں اسلامی قانون ان پر نافذ نہیں کیا جائے گا۔مودودی صاحب نے یہاں تک لکھا ہے کہ اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کو تقریر و تحریر اور ضمیر کے اظہار کی وہی آزادی ہے جو مسلمانوں کو حاصل ہے اور وہی قانونی پابند یا ں جو مسلمانوں پر عائد ہوتی ہیں۔قانونی حدود کے اندر غیر مسلموں کو بحث ومباحثہ کرنے کی بھی اجازت ہے، وہ اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرنے میں آزاد ہیں۔مختصراً یہ کہ ان کو اپنے عقیدہ اور ضمیر کے خلاف کوئی عقیدہ اختیار کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔(اسلامی ریاست میں ذمیوں کے حقوق صفحه 33، 34 لاهور 1970ء طبع سوم از مولانا مودودی) اسلام نے معاہدین پر کوئی ایسی شرط عائد نہیں کی جو ان کو دوسرے درجہ کا شہری بنادے یا ان کو پست درجہ دے بلکہ محققین اسلام نے تسلیم کیا ہے کہ موجودہ زمانہ میں مغربی اقوام نے اقلیتوں کو جو حقوق دیئے ہیں اسلام نے اس سے بڑھ کر حقوق دے رکھے ہیں۔زمتوں کے لئے صرف آزادی مذہب اور حریت فکر کی ضمانت ہی نہیں دی بلکہ ان کی لغت اور ثقافت حتی کہ زندگی کے تمام مسائل میں ان کو آزادی دی گئی۔نہ ان کے مذہب میں مداخلت کی گئی ہے نہ ان پر ان کی مرضی کے خلاف کوئی شرط عائد کی گئی۔علماء نے تو لکھا ہے کہ کارِ خیر یا حصول ثواب کے لئے ایک کا فریا مشرک کو مسجد کی تعمیر کی اجازت دینا شرعاً جائز ہے۔(اسلام کا نظام مساجد صفحه 147 دار الاشاعت کراچی) تو پھر ہمارے لئے کیوں جائز نہیں جب کہ ہم اس کو نہ صرف کار خیر بلکہ مذہب کا حصہ سمجھتے ہیں۔136