امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 135
قرآن کی عام تعلیم ہر سچے مسلمان کا نصب العین تھی۔(اسلام اور قانون جنگ و صلح صفحہ 272 حاشیہ ) پس تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ معاہدۂ شام الحاقی ہے اسی لئے وہ بڑا ظالمانہ ہے جب کہ دوسرے معاہدات بڑے فراخ دلانہ ہیں۔ان میں غیر مسلموں کی لغت اور ثقافت کو بھی گزند نہ پہنچانے کا حکم ہے۔دائرۃ المعارف جلد 10 صفحہ 27,26۔مطبوعہ 1973 ، الاشباہ والنظائر صفحہ 509۔منشی نول کشور لکھنو، ” الہارون" صفحہ 239,238۔تاریخ طبری حصہ دوم صفحہ 501 - فتوح البلدان صفحہ 636۔کتاب الخراج امام ابو یوسف صفحہ 26 حصہ اوّل ، دوم صفحہ 636۔احکام اھل الذمة صفحہ 89 مطبوعہ 1415ھ۔اسلام کا نظام امن صفحہ 156,155 جون 1981 ء از محمد ظفیر الدین مفتاحی ندوی اور الفاروق‘ از شیلی صفحہ 148 155,154,149 جولائی 1963ء کے حوالوں سے ہم زمیوں کے حقوق پر تفصیل سے روشنی ڈال چکے ہیں کہ غیر مذاہب کے جن لوگوں سے صلح کی گئی یا مفتوحہ علاقے کے لوگوں کو امان دی گئی ان کو مذہبی آزادی تھی جو مذہب وہ چاہتے اختیار کرتے۔مذہبی رسومات آزادی سے ادا کرتے ، اپنی عبادت گاہیں تعمیر کرتے ، ان کو آبا در کھتے تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران کے عیسائیوں کو یہاں تک فرمایا تھا کہ مذہب کے بارہ میں تمہیں کسی تکلیف یا آزمائش میں نہیں ڈالا جائے گا، موجودہ آرڈینینس میں اس کی صریح خلاف ورزی کی گئی ہے۔اذان نہ دینے اور مسجد کو مسجد کہنے سے روک کر ہمیں تکلیف پہنچائی ہے۔مصلحتِ عامہ کی آڑ میں بھی اس قسم کے اقدام قطعاً قرآن وسنت کے خلاف ہیں کیونکہ درجنوں معاہدے اپنے اصل الفاظ میں موجود ہیں کہ کسی مذہب سے تعرض نہ کیا جائے۔حضرت امام ابو حنیفہ نے فرمایا ہے کہ غیر مذاہب والوں کو ان کے مذہبی احکام پر چھوڑ دو اور ان کے مذہبی امور میں مداخلت نہ کرو۔بنو عباس کے دور میں اہل الذمہ میں سے کئی لوگوں کو اہم عہدوں پر فائز کیا گیا حتی کہ اجازت دی گئی کہ وہ وزارت کا عہدہ 135