امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 134
شخصیت اور معاہدے کے محل وقوع میں اختلاف و اضطراب کی وجہ سے ناقابل اعتماد ہیں۔(مقدمة احكام اهل الذمة صفحه 44,42 از ڈاکٹر صبحی صالح، دمشق یونیورسٹی) نیز ان شروط عمری کا کوئی نشان کتاب اللہ اور حدیث نبوی میں نہیں ملتا۔(ذكر الشروط العمرية واحكامها و موجبتها مقدمة احكام اهل اللّمة صفحه 661،657 از ڈاکٹر محمد حمید الله) نوٹ:۔معاہدہ عبدالرحمن بن غنم کی اندرونی شہادات بھی اُسے مشتبہ کرتی ہیں۔اول۔تو یہ کہ یہ معاہدہ حمص کے خلاف ہے۔دوم۔شہر دمشق میں مسلمانوں کی آبادی کے بارہ میں۔سوم۔مسلمان بچوں کو قرآن نہ پڑھانے کی شرط مجید خدوری اپنی کتاب "War and peace in the law of Islam" وو میں اس معاہدہ کا حضرت عمرؓ کے زمانہ کے بعد کا بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں :۔یہ ثابت کرنا غیر ضروری ہے کہ اس میثاق کا متن حضرت عمرؓ کے زمانہ کا نہیں بلکہ بعد کے زمانہ کا ہے اس لئے کہ اس کی بیشتر پابندیاں ان ہدایات سے متفاوت ہیں جو حضرت عمرؓ نے اپنے سپہ سالاروں کو دی تھیں نیز متعد د دفعات رواداری اور ظلم وتعدی کے زمانہ کی پیداوار ہیں۔اسلام اور قانون جنگ و صلح مترجم مولانا غلام رسول مہر صفحہ 272 مکتبہ معین الادب لاہور ) مولانا غلام رسول مہر اس معاہدہ کو حضرت عمرؓ کے زمانے کے بعد کا قرار دیتے ہیں چنانچہ آپ لکھتے ہیں :۔اس مکتوب میں ایسی داخلی شہادتیں موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ بہت بعد میں مرتب ہوا۔اس لئے کہ اس میں دمشق کے اندر مسلمانوں کی خاصی وسیع آبادی کا ذکر ہے۔وہ آبادی فتح دمشق کے ساتھ ہی موجود نہ ہو سکی تھی نیز بعض ایسی پابندیاں ہیں جنہیں کوئی مسلمان گوارا ہی نہ کر سکتا تھا۔مثلاً یہ کہ عیسائی اپنے بچوں کو قرآن نہ پڑھائیں حالانکہ 134