امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 128
جواب الجواب ہماری بحث کے ابتدائی حصہ کے بعد جب فاضل مشیران عدالت نے خطاب کیا تو انہوں نے ذمیوں کے حقوق کے بارے میں گفتگو کی۔اور ذمیوں کا وہ نقشہ کھینچا جو انسانیت اور شرف انسانیت کی تذلیل ہے۔ہم علی وجہ البصیرت اس بات پر قائم ہیں کہ ہم ذقی نہیں ہیں اور نہ اس کے حقوق مانگتے ہیں۔ہاں ہم خدا اور اس کے رسول کے ذمّتی ہیں اور یہی ذمہ ہمیں کافی ہے۔اس ملک کی حفاظت میں ہمارا خون کم نہیں بہا۔ہم نے اپنی ساری بحث کو قرآن وسنت تک محدود رکھا تھا لیکن عدالت کے فاضل معاونین نے اپنا سارا زور بیان فقہائے اسلام کے نظریات پر خرچ کر دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی مشرکین تھے لیکن ان کی مثال چھوڑ کر سند فقہاء کو مانا گیا ہے۔اگر قرآن اور سنت کی سندلاتے تو بات تھی۔مشیران عدالت نے ساری بحث کلیۂ ایک فریق کی حیثیت میں کی ہے۔عدالت کے معاون ہونے کا مقام و منصب ملحوظ نہیں رکھا۔فقہاء کی آراء کو بیان کرنے کے بعد ان کی تان اس بات پر ٹوٹی کہ ہم ان کو یہ سمجھتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں حالانکہ یہ عدالت کی مدد کرنے کے لئے آئے تھے اور عدالت کی مدداسی صورت میں کی جاسکتی تھی کہ وہ قرآن اور سنت کی رو سے زیر بحث مسئلہ پر غیر جانبدار آراء کا اظہار کرتے۔ایک مشیر عدالت نے کہا کہ پاکستان قائد اعظم کی میراث نہیں ہے۔ہم پوچھتے ہیں تو کیا ان کی میراث ہے یا جواب مسند پر بیٹھے ہیں ان کی میراث ہے۔اور یہ کہنا کہ کوئی معاہدہ 128